مالا کنڈ میں ذمہ داریوں کی منتقلی: امن کی نئی آزمائش
اداریہ — 12 فروری 2026
موجودہ دور کے تقاضے یہ ہیں کہ امن و امان کے مسائل کو عسکری اور سول اداروں کے بیچ بہترین ہم آہنگی سے حل کیا جائے۔ ملک کے شمال مغربی حصے، خاص طور پر مالا کنڈ ڈویژن، گزشتہ برسوں سے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ ایسے حالات میں جب ریاست کے مختلف ادارے اپنی ذمہ داریوں کے تناظر میں عوامی تحفظ، قانون کی حکمرانی اور معاشرتی استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، وہاں وفاق اور صوبائی حکومت کا ایک صفحے پر آنا خوش آئند ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ امن، ترقی اور خوشحالی کی خواہش کی ہے۔ انتخابات بعد کی حکومتی تشکیل کے بعد جہاں صوبائی حکومت اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی ہے، وفاقی حکومت نے بھی امن و امان کے شعبے میں مل کر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ دونوں جانبہ سمجھوتہ مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔ ملاکنڈ میں فوجی ذمہ داریوں کا صوبائی حکومت کے حوالے کیا جانا کسی بھی طور پر فوج کی خدمات کو کمتر قرار دینے کا عمل نہیں، بلکہ ایک ایسا قدم ہے جس میں سول اداروں کے مضبوط کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی مشینری اس بھاری ذمہ داری کو مؤثر انداز میں نبھا پائے گی؟ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ فوج اور پولیس کے مابین کس طرح باہمی رابطے، تربیت اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ امن کی صورتحال میں مزید بہتری آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین پالیسی اور وسائل کی ہم آہنگی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
یہ امر قابلِ تعریف ہے کہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں جانب سے مشترکہ عزم کا اظہار ہوا۔ لیکن عملی سطح پر اس عزم کو جمہوری اصولوں، شفافیت اور عوامی شرکت کے ساتھ نافذ کرنا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ امن کے تحفظ کے لیے تمام اداروں کا مشترکہ وژن، واضح حکمت عملی اور عوامی اعتماد ہی وہ ستون ہیں جن پر پائیدار ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مالا کنڈ میں ذمہ داریوں کی منتقلی ایک مثبت قدم ہے — لیکن اصل کامیابی تب ہی ممکن ہوگی جب عوامی تحفظ، قانون کی حکمرانی اور خوشحالی کے مقصد کو ہر فرد کے روزمرہ کے تجربے میں حقیقت کا روپ دیا جائے۔

