محمود خان اچکزئی کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری
اداریہ —– 18 جنوری 2026
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کسی بھی جمہوری نظام میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہی منصب حکومت اور ایوان کے درمیان آئینی توازن، احتساب اور جمہوری مکالمے کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہونا اسی آئینی تسلسل کی علامت ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق محمود خان اچکزئی کی تقرری 16 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو چکی ہے، جبکہ یہ منصب 9 مئی کیس کے تناظر میں عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہوا تھا۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں اس عہدے کا طویل عرصے تک خالی رہنا پارلیمانی عمل کو کمزور کر رہا تھا، جس کا ازالہ اب ممکن ہو سکا ہے۔
اہم پہلو یہ ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزئی کو بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان، جو اس وقت جیل میں ہیں، کی جانب سے اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا۔ یہ فیصلہ محض ایک فرد کی تقرری نہیں بلکہ اپوزیشن کی مجموعی حکمتِ عملی، اتحاد اور مستقبل کے سیاسی رخ کا مظہر بھی ہے۔
محمود خان اچکزئی طویل سیاسی تجربہ، واضح نظریاتی مؤقف اور پارلیمانی امور پر گہری نظر رکھنے والے سیاست دان سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ آئین، پارلیمان کی بالادستی اور وفاقی ڈھانچے کا استحکام رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملکی سیاست شدید پولرائزیشن، عدم اعتماد اور سیاسی کشیدگی کا شکار ہے، ان کی تقرری ایک سنجیدہ اور بالغ قیادت کے امتحان کے مترادف ہے۔
تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ اپوزیشن لیڈر کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا اپوزیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر پائے گی یا نہیں۔ موجودہ حالات میں اپوزیشن کا کردار صرف حکومت پر تنقید تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ پارلیمنٹ کے وقار کی بحالی، قانون سازی میں مثبت کردار اور جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے عملی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب محض علامتی نہیں بلکہ ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ کردار ذاتی یا جماعتی مفادات کے بجائے قومی مفاد میں ادا کیا جائے تو نہ صرف پارلیمان مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ سیاسی درجۂ حرارت میں کمی بھی ممکن ہے۔
اب یہ ذمہ داری محمود خان اچکزئی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کو محض احتجاجی سیاست کے بجائے ایک مؤثر، منظم اور آئینی قوت کے طور پر متحرک کریں۔ ملک اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور ادارہ جاتی توازن کا متقاضی ہے، اور یہی وہ امتحان ہے جس میں نئی اپوزیشن قیادت کو خود کو ثابت کرنا ہوگا۔
جمہوریت کا حسن اختلافِ رائے میں ہے، محاذ آرائی میں نہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ قائدِ حزبِ اختلاف کا یہ نیا باب پارلیمانی سیاست میں سنجیدگی، برداشت اور آئینی بالادستی کو فروغ دے گا

