Advertisements

زنداں میں حیات

Zulfiqar Ali Bhutto
Advertisements

تحریر: محمد سلیم بھٹی

کوئی نہیں جانتا تھا کہ زوالفقار علی بھٹو کو 4اپریل 1979 ء کی رات میں عوام سے جدا کردیا جائیگا، عالمی سامراج اور اس کے بغل بچہ یہ سمجھے کہ شاید مسلم امہہ کے عظیم قائد ذوالفقار علی بھٹو کے خیالات وافکار کو بھی اس کے جسد خاکی کی مانند صفحہ ہستی سے پھانسی کی نذر کردیں گے۔لیکن وہ نادان بھول گئے کہ انسانیت کی خدمت کرنے والے اشخاص کی عظمت اللہ تعالیٰ قائم رکھتا ہے،صرف 53 سال کی فانی ذندگی پانے والے شخص سے اللہ نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دلوائے کہ آج بھی43 سال کا عرصہ بیتا، اس کے سیاسی افکار دائیں اور بائیں بازو کے نظریات کے حامل افراد اپنائے بیٹھے ہیں،سیاسی شعبدہ باز اور بازی گر ہر دم اسی سیاسی فکر اور انداز کی تقلید کر کے اپنی کامیابی یقینی بنانا چاہتے ہیں،لیکن بھٹو روز نہیں جنم لیتے۔
بھٹو کے خلاف بغاوت کرنے والے فوجی آمر نے اپنی فسطائیت کو دوام دینے کے لئے بھٹو کو پھانسی تو دے دی، اس شخص کاعدالتی قتل کیا کہ جسے عالم اسلام نے مسلم اًمہ کا لیڈر مانا،اس کے بارے میں پاکستانی فسطائی آمر عجیب مخمصے کا شکار تھا،بتانے والے بتاتے ہیں کہ فسطائی آمر یہ سمجھتا تھا کہ بھٹو کسی ہندو عورت کے گھر میں جنم لینے والا غیر مسلم فرد تھا اس لئے اس کی پھانسی کے بعد اس کی تصاویر بھی بنائی گئیں۔ لیکن کرنل رفیع الدین نے اپنی کتاب میں گواہی دی ہے کہ بھٹو شہید کا ہر پہلو اسلامی تھا،بھٹو شہید کی پھانسی اور موت آج بھی معمہ ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بھٹو کو پھانسی سے پہلے مار دیا گیا تھا،کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن یہ باتیں آج بھی راز ہیں،کرنل رفیع اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ بھٹو صاحب کو جب پھانسی دی گئی تو وہ بھوک ہڑتال پر تھے،اور جیل میں ان پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا تھا،لیکن بیگم نصرت بھٹو اور شہید رانی بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ انہیں تشدد کر کے مارا گیا تھا کہ نہ تو ان کی گردن ٹوٹی تھی اور نہ ہی گردن پر پھانسی نشان تھا۔اس زمانے میں صادق جعفری کی ایک کتاب :کیا بھٹو کو پھانسی سے پہلے مار دیا گیا؟ شائع ہوئی،اس میں بھٹو خاندان کے ایک ملازم عبد القیوم تنولی اور بھٹو شہید کا نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی محموداحمد بھٹو کے حوالے سے بیانات ہیں کہ بھٹو کے جسم پر پھانسی کے نشانات موجود نہیں تھے۔جنرل ضیاء الحق نے بھٹو شہید کی پھانسی کی فلم اور تصاویر بھی بنوائیں جن کا ذکر بریگیڈیئر صولت مزرا کے کالم میں موجود ہے،یہ گواہی ان کی کتاب، غیر فوجی کالم میں محفوظ ہوچکی ہے،دنیا بھر کے عالمی اسلامی ملکوں اور ان کے قائدین نے جنرل ضیاء کو منع کیا کہ وہ بھٹو کو پھانسی نہ دیں۔ لیکن وہ فاشسٹ بھٹو سے خوفزدہ تھا،بلند ایجوت نے کہا کہ بھٹو کو انہیں دے دیا جائے وہ سیاست نہیں کریں گے،کرنل قذافی نے پیشکش کی کہ اگر بھٹو اجازت دیں تو ان کے کمانڈو بھٹو کو جیل سے نکال کر لے جائیں گے۔ لیکن بھٹو نے کسی کسی کاروائی کا حصہ بننے سے یکسر انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تاریخ کی بجائے فوجی آمر کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔اسی لئے پوری دنیا میں،زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ آج بھی گونج رہا ہے،جبکہ آمر ضیاء آگ کے شعلوں میں جل کر بھسم ہوگیا۔جنرل ضیاء بھٹو شہید کی فلم اور تصاویر دیکھ کر کتنا غصہ میں آیا ہوگا کہ اسے ایک مردہ شخص کی لاش کی بے حرمتی کر کے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔
بھٹو شہید کی پھانسی کا فیصلہ کرنے والے ججوں میں سے ایک جج سید نسیم حسن شاہ نے بعد میں اعتراف کیا کہ انہوں نے دباؤ کے تحت غلط فیصلہ دے کر بھٹو کے ساتھ ناانصافی کی۔بھٹو کے عدالتی قتل نے دنیا بھر میں پاکستان کے عدالتی نظام انصاف کو مجروح کردیا،آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر بریگیڈئیرسید ارشاد ترمزی نے اپنی کتاب Profiles of Inteligence میں لکھا ہے کہ انہوں نے خود واشنگٹن سے پاکستان میں امریکی سفارت خانے کوبھیجا جانے والا خفیہ پیغام پکڑا تھاس میں صاف اور واضح لکھا ہے کہ بھٹو کی موت کو یقینی بنایا جائے،کہ امریکہ کے نزدیک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا بھٹو شہید کا سب سے بڑا جرم تھا،
تیسری دنیا کے مظلوم اور محکوم نہتے غریب اور بے کس انسانوں کو یہ شعور دینا کہ مظلوموں پر ظلم کرنے والے ظالم کے خلاف اپنے حقوق کے حصول کے لئے آواز کیسے بلند کرنی ہے،وہ بھٹو کا کام ہے ہے۔سامراج کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے حقوق واپس کیسے لینے ہیں۔عالم اسلام کو یکجا کر کے یہ پیغام اور شعور اجا گر کرناکہ عالم اسلام کے خلاف استعماری سامراجی قوتوں کو کیسے ناکام بناتے ہوئے مسلم امہ کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے اس کا نام بھٹو ہے۔عالمی استعماری سامراج اور اس کے بغل بچہ جاگیر دار سرمایہ داروں کے خلاف عوامی آواز اًٹھانے والا بھٹو ہے، بھٹو شہیدجو محکوموں کو حاکموں کے خلاف خواب غفلت سے بیدار کرواتا تھا۔بھٹو شہید نے جہاں پاکستان کے غریب کسانوں،مزدوروں،طالبعلموں،دانشوروں کو پیپلز پارٹی کے نام پر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ بلکہ پاکستان کو اقتصادی،سماجی،سیاسی،اور دفاعی اعتبار سے مظبوط بنانے کے لئے کارہائے نمایاں سر انجام دئے وہ ناقابل فراموش ہیں۔1973ء کا متفقہ آئین جس پرآج بھی پاکستان میں بسنے والی تمام قومیتیں متفق اور ہم خیال ہیں وگرنہ اس سے قبل بھی دساتیر بنائے گئے لیکن انہیں قوم نے پزیرائی نہ بخشی۔سینٹ آف پاکستان کا ادارہ جس کے ذریعہ آج پاکستان کے چاروں صوبوں کی نمائندگی وفاق میں برابر ہے بھٹو شہید نے ہی قائم کیا۔بھٹو شہید نے پاکستان کے نظام ریاست کو اپنے مسائل کو سلجھانے کے لئے پاکستان کے سیاسی،قانونی اور انتظامی اداروں کی بنیاد رکھی۔وہ ادارے جو آج وفاق پاکستان کے اتحاد اور سلامتی کے ضامن ہیں۔
بھٹو شہید نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو بہتر بناتے ہوئے پاکستان کو اقوام عالم میں نمایاں مقام دلانے کے لئے ملک بھر میں میٹرک تک تعلیم کو مفت قرار دیتے ہوئے ملک بھر کے طول وعرض میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھی۔بھٹوشہید کا کمال تھا کہ آپ کی کامیاب خاجہ پالیسی کی بدولت سانحہ پاکستان کے بعد جولائی 1972 ء میں ہندوستان کی قید سے نہ صرف 90 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے بلکہ ہندوستان نے جس 95 ہزار مربع میل زمین پر قبضہ کرلیا تھا وہ بھی واگزار کرواکر پاکستان کی حد میں شامل کروایا۔ملک کے طول وعرض میں موجود عوام کی نظریاتی تربیت کے لئے ملک بھر کے پسماندہ علاقوں میں ریڈیو پاکستان کے اسٹیشنز تعمیر کرائے بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات کی فراہمی کے لئے بوسٹرز اور علاقائی دفاتر قائم کئے گئے۔
بھٹو صاحب کا سب سے عظیم کارنامہ جو آپ نے اسلامی اْمہ کے لئے سرانجام دیا وہ اسلامی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں انعقاد تھا۔اس کانفرنس میں شرکت کے لئے دنیائے اسلام کے عظیم راہنماء یاسر عرفات، شاہ فصل،معمر قذافی۔شاہ حسین،صدر حافظ الاسد شامل تھے بھٹو صاحب کی صدارت میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اسلامی دنیا کے لئے الگ فورم کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا جس کے بعد اسلامی دنیا کا نام بھی عالمی نقشہ پر اْبھرا۔مسلم سربراہان نے بھٹو صاحب کی تجاویز جس میں اسلامی معیشت کو ترقی دینے کے لئے اسلامی بینک،اسلامی دنیا کی فوج اور بین الاقوامی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ایٹمی قوت کی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوششیں شامل تھیں کے لئے اپنے عزم مصمم کا اظہار کیا جس کی مسلم اْمہ نے نہ صرف بھر پور تائید کی۔بلکہ وسائل بھی حکومت پاکستان کو مہیا کئے۔بھٹو شہید کی کاوشوں کی بناء پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان آکر ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کام کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹری قائم کر کے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ کے لئے ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔یہیں سے ہی عالمی سامراج نہ صرف بھٹو شہید بلکہ پاکستان کے خلاف صف آراء ہوگیا۔امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے اگست 1976 ء میں اپنے دورہ پاکستان کے بعد دو ٹوک الفاظ میں بھٹو صاحب کو اس منصوبہ سے باز رکھتے ہوئے انہیں نشان عبرت بنادینے کی بات کہی۔ یہ محض ایک دھمکی نہیں تھی بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے بعد بھٹو صاحب کو اقتدار سے الگ کرنے کی سازش پر عمل دعآمد شروع کردیا گیا تھا۔ جس کے جواب میں بھٹو شہید نے امریکہ کو للکارتے ہوئے کہا کہ سفید ہاتھی میں تم سے خوفزدہ ہوکر اپنی قوم اور اسلام سے غداری نہیں کرسکتا۔عالمی سامراج نے اسے اسلامی بم سے تشبیہ دیتے ہوئے بھٹو کے خلاف اپنی سازشوں کے تانے بانے بننے شروع کردئے۔بھٹو شہید کے وژن کی بناء پر اقوام عالم انہیں مصر کے جمال عبدالناصر اور انڈونیشیا کے سوئیکارنو کے ساتھ ملانے لگیں۔۔بھٹو صاحب نے نہ صرف ایٹمی قوت بننے کی بنیاد رکھی بلکہ ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا۔ایرو ناٹیکل انجینئرنگ کمپلیکس کامر ہ جیسے صنعتی ادارے قائم کر کے نہ صرف پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے پیشرفت کی بلکہ ہزاروں افراد کے لئے روز گار کے مواقع مہیا کئے۔آج ہم اربوں روپیہ اس صنعتی حیثیت کی بناء پر دیگر اقوام کو اسلحہ اور چھوٹے جہاز فروخت کر کے کما رہے ہیں پاکستان کی معیشت کو مظبوط کررہے ہیں۔ بلکہ اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں بھی خود کفیل ہیں۔بھٹو صاحب نے غریب عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے جاگیرداروں سے زمینیں چھین کر غریب کسانوں کو دینے کے لئے ذرعی اصلاحات کے نفاذ کا اعلان کیا۔صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کے مزدوروں کو حقوق دئے۔
بھٹو شہید کی انہی کرشماتی اور ولولہ انگیزکاوشوں نے پاکستان کے غیور عوام کے دل موہ لئے لیکن ساتھ ہی پاکستان کے مْلا،جاگیردار،صنعتکار،اور سامراجی حاشیہ بردار بھٹو شہید کے خلاف صف آراء ہو گئے جنہوں نے امریکی ڈالروں کی برسات میں پی این اے کی نام نہاد تحریک برائے اسلامی نظام شروع کی۔جس کی آڑ میں جنرل ضیاء نے 5 جولائی 1977 ء کی سیاہ رات کو بھٹو صاحب کے خلاف فوجی بغاوت کی اور پاکستان کے آئین کو پچھاڑتے ہوئے سینٹ سمیت دیگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کر کے بھٹو اور دیگر پارٹی راہنماؤں کو گرفتار کرلیا اور90 روز میں دوبارہ انتخابات کروانے کا وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ اس وقت تک ایفا نہ ہوسکا جب تک نام نہاد امیر المومنین بہاولپور کے قریب فضائی حادثے میں جل کر بھسم نہ ہوگیا۔
بھٹو مخالفین سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے انہیں مورد الزام ٹہرانے کے لئے ملک عباس اطہر مرحوم کی اس ذمانے کی شہ سرخی ادھر ہم اْدھر تم کا حوالہ دیتے ہیں۔جس کی تردید میں عباس اطہر نے نہ صرف الیکٹرانک میڈیا بلکہ ایک ورکشاپ میں میرے سامنے بیٹھ کر بھی ہم سے کہا کہ بھٹو شہید نے ایسا کوئی نعرہ نہیں لگایا تھا بلکہ یہ ان کے ذہن کی اختراع کے مطابق محض ایک اخبار کی شہ سرخی تھی۔یعنی یہ صرف بھٹو مخالف اسٹیبلشمنٹ کا نعرہ تھا۔
آج بھی بہت سے پاکستانی سیاستدانسستی شہرت حاصل کرنے کے لئے بھٹو کا نام استعمال کرتے ہیں۔لیکن انہیں بھٹو کے منشور،نظریات اور افکار سے کوئی دلچسپی نہیں،وہ بھٹو کا نام لے کر اپنے اقتدار کو طول دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں اور برسر اقتدار آنے کے لئے بھی بھٹو کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سیاسی نفسا نفسی میں بھٹو شہید کا نواسہ بلاول بھٹو ذرداری وہ واحد امید کی کرن ہے جو پاکستانی قوم اور مسلم اًمہ کو ترقی اور استحکام کی خاطر عوام کی مدد سے بھٹو کے افکار اور نظریات پر عمل کرسکتے ہیں، بلاول بھٹو پرعزم بھی ہیں کہ وہ ایسا کر کے نہ صرف اپنے اصلاف کی میراث کو قائم رکھیں گے، بلکہ پاکستان اور عالم اسلام کی بہتری اور بقا کے لئے بھی جدوجہد کریں گے۔

Advertisements
Muhammad Saleem Bhatti
تحریر: محمد سلیم بھٹی
ڈپٹی سیکریٹری انفارمیشن
پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب