عاطف زمان کو ٹی وی اینکر مرید عباس اور تاجر خضر حیات کے قتل کے مقدمے میں دو مرتبہ سزائے موت
سات سال طویل ٹرائل اختتام کو پہنچا، مفرور شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری
کراچی: کراچی کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز عاطف زمان کو ٹی وی اینکر مرید عباس اور تاجر خضر حیات کے قتل کے دو مقدمات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ سزائے موت کا حکم سنا دیا، جس کے ساتھ ہی سات سال سے جاری مقدمے کی سماعت اپنے اختتام کو پہنچی۔
فیصلہ جوڈیشل کمپلیکس جیل کے اندر قائم عدالت میں سنایا گیا۔
عدالت نے مفرور شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے، جو تاحال روپوش ہے۔
34 سالہ مرید عباس اور 45 سالہ خضر حیات کو ۹ جولائی 2019 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق یہ قتل کاروباری اور مالی معاملات پر تنازعے کا نتیجہ تھے۔
واقعے کے بعد درخشاں پولیس اسٹیشن میں عاطف زمان اور عادل زمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ عادل زمان سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منسوخ کیے جانے کے بعد فرار ہو گیا تھا اور ٹرائل کورٹ پہلے ہی اسے مفرور ملزم قرار دے چکی تھی۔
ستمبر 2020 میں سپریم کورٹ نے عادل زمان کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے پولیس کو اسے فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم وہ حکم جاری ہونے کے بعد عدالتی احاطے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
ضمانت کی منسوخی کی درخواست مرید عباس کی بیوہ زارا عباس نے دائر کی تھی، جن کا مؤقف تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے شریک ملزم کو ریلیف دیتے ہوئے اہم شواہد کو نظرانداز کیا۔ ان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عادل زمان اس وقت جائے وقوعہ پر موجود تھا جب عاطف زمان نے فائرنگ کر کے مرید عباس اور خضر حیات کو ہلاک کیا۔

