Advertisements

جرنلسٹس الائنس کے کوآرڈینیٹر حمید اللہ خان عزیز کی پانچویں قومی  ورکشاپ میں شرکت

Journalists' Alliance Coordinator Hameed Ullah Khan Aziz Addresses Armed Conflict Reporting at 5th National Workshop
Advertisements

مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت” کے عنوان پر تفصیلی مقالہ پیش کیا, مری، میں انسٹی ٹیوٹ پالیسی آف اسٹڈیزاور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس( کے اشتراک سے "مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت” کے موضوع پر منعقدہ قومی ورکشاپ میں ملک بھر سے 25صحافیوں اور ایڈیٹرز و محققین نے شرکت کی۔

مری: جرنلسٹس الائنس کے کوآرڈینیٹر حمید اللہ خان عزیز نے انسٹیٹیوٹ پالیسی آف  اسٹڈیز اسلام آباد اور انٹرنیشنل کمیٹی آف  دی ریڈ کراس کے اشتراک سے شنگریلا ہوٹل مری میں منعقدہ "مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت” کے عنوان پر پانچویں دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ میں خصوصی شرکت کی اور اس موقع پر اپنا تفصیلی تحقیقی مقالہ پیش کیا۔

Advertisements

یہ پانچویں ورکشاپ تھی جو 16 اور 17 جون 2026ء کو منعقد ہوئی، جب کہ اس سے قبل چوتھی ورکشاپ گزشتہ سال 25 اور 26 جون 2025ء کو اسلام آباد کے ہوٹل ہل ویو، ایف-سیون میں منعقد کی گئی تھی، جس میں بھی حمید اللہ خان عزیز نے بہ طورایڈیٹر مجلہ”تفہیم الاسلام” اور  مقالہ نگار شرکت کی تھی۔

موجودہ ورکشاپ میں ملک بھر سے تقریباً پچیس کے قریب صحافیوں، محققین اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ شرکاء کو نہ صرف تربیتی نشستوں میں شامل کیا گیا بلکہ ان کے اپنے اپنے علاقوں میں صحافتی تجربات کے حوالے سے انٹرویوز بھی کیے گئے تاکہ ہنگامی حالات میں صحافت کے عملی پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ اختتام پر شرکاء کو اسناد بھی دی گئیں۔

حمید اللہ خان عزیز نے اس موقع پر "مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت” کے موضوع پر اپنا تفصیلی مقالہ کتابی شکل میں پیش کیا، جس میں انہوں نے جنگی حالات، قدرتی آفات اور ہنگامی صورتِ حال میں صحافت کے اخلاقی، پیشہ ورانہ اور تحقیقی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ یاد رہے، یہ مقالہ ایک جامع علمی کاوش ہے جسے کتابی شکل میں شائع کر کے شرکاء اور ریسورس پرسنز میں تقسیم کیا گیا۔

ورکشاپ کے دوران مختلف ریسورس پرسنز نے اس مقالے کو موضوع کے عین مطابق، تحقیقی اور عملی صحافت کے لیے رہنما قرار دیا اور اس کی علمی اہمیت کو سراہا۔ مقررین نے جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں میں جاری صحافتی سرگرمیوں اور تربیتی عمل کو بھی سراہا اور مستقبل میں اس شعبے کی بہتری کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس ورکشاپ میں بین الاقوامی اور قومی سطح کے ماہرین نے بطور ریسورس پرسن شرکت کی۔ ان میں ڈاکٹر ضیاءاللہ رحمانی (شریعہ ایڈوائزر، ICRC)، ڈاکٹر ثاقب جواد(سول جج)،پروفیسر ندیم فرحت گیلانی (IPS)، جناب عمیر حسن، جناب طارق حبیب اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ آئی پی ایس کے ڈائریکٹر خالد رحمان بھی موجود تھے، جنہوں نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات میں صحافت کی اصل بنیاد تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر ثاقب جواد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگی اور ہنگامی حالات میں میڈیا کا کردار نہایت حساس ہوتا ہے اور صحافیوں کو ذمہ داری، احتیاط اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو لازمی بنانا چاہیے۔

آئی سی آر سی کے پاکستان میں شریعہ ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی  نے اس موقع پر اعلان کیا کہ حمید اللہ خان عزیز کو پانچوں ورکشاپس کے مواد کو یکجا کر کے ایک جامع کتابی شکل دینے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے اور انہیں اس کا مدیر اعلیٰ مقرر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس علمی منصوبے کے تمام اخراجات ادارہ خود برداشت کرے گا۔

شرکاء نے اس دو روزہ ورکشاپ کو صحافت کے معیار، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

ورکشاپ کے دوران شنگریلا ہوٹل مری کے ریسٹورنٹ میں شرکاء کے لیے مکمل رہائشی اور طعامی سہولیات فراہم کی گئیں۔ تمام شرکاء کو تین وقت کے کھانے۔۔ناشتہ، لنچ اور پرتکلف ڈنر۔۔۔بڑے منظم انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ شرکاء کے لیے الگ الگ آرام دہ کمرے رہائش کے لیے مختص کیے گئے، جہاں ان کی مکمل خاطر مدارت اور مہمان نوازی کا اہتمام کیا گیا، جسے شرکاء نے نہایت قابلِ تحسین قرار دیا۔