ایرانی اعلیٰ قیادت کی شہادت کے باوجود بھی اسرائیل اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کامیابی کے لیے ایران میں زمینی فوج اتارنے کو ضروری قرار دے دیا۔
تہران: ایران پر مسلط کی گئی امریکا اور اسرائیل کی جنگ 22 ویں روز میں داخل ہوگئی۔ مسلسل بمباری، اہم ایرانی تنصیبات پر حملوں اور ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کی شہادت کے باوجود بھی اسرائیل اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کامیابی کے لیے ایران میں زمینی فوج اتارنے کو ضروری قرار دے دیا۔
نیتن یاہو کئی روز منظرِ عام سے غائب رہنے کے بعد میڈیا میں آئے اور بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی میزائل سازی اور یورینیم افزودگی کی صلاحیت ختم کر دی ، لیکن فوج داخل کیے بغیر ایران حکومت کا تختہ نہیں الٹا جاسکتا ، زمینی اقدام کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں۔ دوسری طرف امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں مزید کئی جنگی جہاز، چار ہزار امریکی میرین اور سیلرز مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق امریکا کا بحری بیڑا یو ایس ایس باکسر، میرین یونٹ اور بحری جنگی جہاز مشرق وسطیٰ بھیجے جارہے ہیں ۔ امریکا کی ریپڈ رسپانس فورس کی تعیناتی سے ایران پر زمینی حملے کی قیاس آرائیاں بڑھنے لگیں ۔

