اسلامیہ یونیورسٹی اور ڈویژنل انتظامیہ کے اشتراک سے ”بلوچستان میں قوم کی تعمیر اور امن“کے موضوع پر علمی و فکری مکالمہ
بلوچستان کے نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ تعلیم ہی بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل ہے اور نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں
تعلیم کے حصول کے لیے بلوچستان سے پنجاب آنا طلبہ کی قربانی اور عزم کی روشن مثال ہے۔ , آئی ٹی ماہرین، انجینئرز اور سول سرونٹس بلوچستان میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں جبکہ جامعات کا کردار محض تعلیم تک محدود نہیں بلکہ قومی ہم آہنگی، امن اور سماجی استحکام کے فروغ میں بھی کلیدی ہے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران
مقررین نے کہا کہ اس نوعیت کے مکالمے بلوچستان میں امن، قومی یکجہتی اور نوجوانوں کے مثبت کردار کے فروغ میں مؤثر ثابت ہوں گے, تقریب میں بلوچ طلبہ کی کثیر تعداد شریک تھی جنھوں نے موضوعات کی مناسبت سے سوال کئے
بہاول پور : اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور ڈویژنل انتظامیہ کے اشتراک سے عباسیہ کیمپس کے غلام محمد گھوٹوی ہال میں ”بلوچستان میں قوم کی تعمیر اور امن“کے موضوع پر ایک اہم علمی و فکری مکالمہ منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کے سماجی، تعلیمی اور سیاسی چیلنجز، قومی یکجہتی اور نوجوانوں کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ تقریب میں بلوچ طلبہ کی کثیر تعداد شریک تھی جنھوں نے موضوعات کی مناسبت سے سوال کئے۔
تقریب سے کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ تعلیم ہی بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل ہے اور نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ علم کو ذاتی مفاد کے بجائے بلوچستان کی تعمیر وترقی کے لیے استعمال کیا جائے اور نوجوان اپنی صلاحیتیں صوبے کی خوشحالی کے لیے وقف کریں۔
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ تعلیم کے حصول کے لیے بلوچستان سے پنجاب آنا طلبہ کی قربانی اور عزم کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ماہرین، انجینئرز اور سول سرونٹس بلوچستان میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں جبکہ جامعات کا کردار محض تعلیم تک محدود نہیں بلکہ قومی ہم آہنگی، امن اور سماجی استحکام کے فروغ میں بھی کلیدی ہے۔ فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عامر سہیل نے“قومی ترقی میں بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل”پر اظہار خیال کرتے ہوئے جدید تعلیم اور تحقیق کے مواقع کی ضرورت پر زور دیا۔ اسکول آف اسٹیٹ سائنسز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سرفراز بتول نے“بلوچ قیادت ماضی، حال اور مستقبل”کے موضوع پر تاریخی تناظر میں گفتگو کی۔
سول سروسز، میڈیا اور ٹیکنالوجی میں کیریئر کی تعمیر”کے سیشن کی نظامت ڈاکٹر شہباز علی خان نے کی، جس میں سپرٹینڈنٹ آف پولیس ملتان کینٹونمنٹ مس کائنات اظہر، ڈائریکٹر ایڈمن پی ایچ اے ملتان محمد اسد علی بدھ، چیئرمین شعبہ سوشل ورک پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا اور بلوچ پی ایچ ڈی اسکالر طارق عزیز نے شرکت کی۔ مقررین نے نوجوانوں کو دستیاب مواقع اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔ دوسرے سیشن میں میڈیا لٹریسی اور گمراہ کن معلومات کے تدارک پر بحث ہوئی، جس کی نظامت ڈاکٹر محمد رمضان طاہر نے کی۔ پینل میں پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل میڈیا وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ بلوچستان مس سیدہ مہوش رضوی، سینئر صحافی ریاض بلوچ اور ڈاکٹر سلمان بن نعیم لائبریری سائنس شامل تھے۔
مقررین نے فیک نیوز کے نقصانات اور نوجوانوں میں تنقیدی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کے اختتامی سیشن میں مقررین نے کہا کہ اس نوعیت کے مکالمے بلوچستان میں امن، قومی یکجہتی اور نوجوانوں کے مثبت کردار کے فروغ میں مؤثر ثابت ہوں گے۔ اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق مکالمے کا مقصد تعلیمی اداروں کے ذریعے امن، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔ تقریب میں پرو وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ڈاکٹر عبدالرؤوف بھی موجود تھے۔تقریب میں بلوچ طلباء کی فیلیز کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں اور وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر بلوچ طلبہ اور سرائیکی طلبہ کی جانب سے اپنی اپنی علاقائی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے بلوچی رقص اور سرائیکی جھومر پیش کیا گیا۔

