Advertisements

اسلام آباد میں خودکش دھماکہ: عبادت گاہوں کا تحفظ اور قومی سلامتی

Advertisements

اداریہ — 8 فروری 2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں کی ایک امام بارگاہ میں ہونے والا المناک خودکش دھماکہ پوری قوم کے لیے شدید صدمے اور تشویش کا باعث ہے۔ اس بزدلانہ اور سفاکانہ دہشت گرد حملے میں 33 بے گناہ نمازی شہید جبکہ 162 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ نماز کے مقدس لمحوں میں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی دین، کوئی اخلاق اور کوئی انسانیت نہیں۔

Advertisements

ابتدائی تحقیقات کے مطابق خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ کے داخلی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی شدت میں اضافہ ہوا۔ یہ حملہ منظم منصوبہ بندی، سہولت کاری اور بیرونی روابط کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ کالعدم تنظیم داعش خراسان کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنا اس خطرناک حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ گروہ پاکستان میں دوبارہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

خودکش دھماکے کے بعد انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے، جہاں سے داعش کے ایک افغان ماسٹر مائنڈ سمیت چار سہولت کار گرفتار کیے گئے۔ اس کے علاوہ حملہ آور کے دو بھائیوں اور ایک خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ریاستی عزم کی عکاس ہیں۔

تاہم یہ افسوسناک واقعہ اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ حساس اور مذہبی مقامات کی سیکیورٹی پر ازسرِنو غور کیا جائے۔ عبادت گاہیں امن، بھائی چارے اور روحانی سکون کی علامت ہوتی ہیں، انہیں نشانہ بنانا قومی وحدت پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ایسے واقعات کے بعد کارروائی کرے بلکہ پیشگی حفاظتی اقدامات، انٹیلیجنس شیئرنگ اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنائے۔

دہشت گردی کسی ایک فرقے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ دشمن کی کوشش ہے کہ معاشرے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے، مگر پاکستانی قوم نے ماضی میں بھی اس سازش کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی متحد ہو کر ایسی قوتوں کو شکست دے گی۔ علما، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کو نفرت کے بیانیے کے مقابلے میں برداشت، رواداری اور اتحاد کے پیغام کو فروغ دینا ہوگا۔

ہم اس اندوہناک سانحے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ یہ خون ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن کی حفاظت کے لیے مستقل چوکسی، مضبوط ریاستی حکمت عملی اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی نرمی یا غفلت مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔