Contact Us

٢٥ اور ٢٩ مئی کے درمیان اسلام آباد مارچ ہوگا، عمران خان

imran khan multan meeting

ملتان: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے ایک مرتبہ پھر عام انتخابات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ 25 سے 29 مئی کے دوران اسلام آباد مارچ کا اعلان کریں گے، اتنی ڈرپوک حکومت ہے کہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمت بڑھانے سے ڈررہی ہے، پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کے لیے نیشنل ایکشن سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ بلانا چاہتے ہیں تاکہ فیصلے کا بوجھ فوج پر آئے۔ 

ملتان میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، کبھی اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دونگا، ن لیگ والے جواب دیں کہ کبھی گیدڑ قوم کا لیڈر بند سکتا ہے، کبھی گیدڑ کو بھی کوئی لیڈر مانتا ہے۔

 اگرہم سیاست کا سوچتے تو موجودہ حکومت کو مزید چلنے دیتے، ہمیں پتا ہے جتنی زیادہ یہ حکومت کریں گے، یہ پاکستان کو سری لنکا والی صورتحال کی طرف لیکر جائینگے، جلدی سے جلدی الیکشن کی تاریخ دو اوراسمبلیوں کوتحلیل کرو۔ پشاور میں کور کمیٹی کا اجلاس ہو گا، جس میں 25 اور 29 مئی کے درمیان لانگ مارچ کی تاریخ مل جائے گی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں نوجوانوں اور خواتین کے بغیر کوئی بھی انقلاب کامیاب نہیں ہوتا، شاندار استقبال پر ملتان کا شکریہ اداکرتا ہوں، یہ انقلاب آرہا ہے، مجھے کہاگیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، قرآن میں ہے جولوگ ایمان لے آئے، اللہ ان کے خوف دورکردیتا ہے، ذلت، مرنے، رزق کا خوف بڑے انسان کوایک چھوٹا سا انسان بنادیتا ہے۔ جب تک آپ خوف کے بت کو نہیں توڑیں عظیم قوم نہیں بنا سکتے، کہاگیا بلٹ پروف شیشہ لگاو، میری قوم کسی سپرپاور،چور اور ڈاکووں کے سامنے نہیں جھکی۔ اللہ سے ہمیشہ دعا کرتا تھا میری قوم کو جگا دے۔دنیا میں جس نے بھی بڑے کام کیے پہلے خوف کوختم کیا۔ خوف کے بت کو توڑے بغیر قوم کوایک عظیم قوم نہیں بناسکتے، ہمارے نبی ﷺنے پہلے لوگوں کوپیسے کی لالچ اورخوف سے آزاد کردیا تھا۔ہمارے نبی ﷺ نے دنیا کی امامت کی تھی۔ جس بیٹسمین کو تیز گیند لگنے کا خوف ہو وہ بڑا بیٹسمین نہیں بن سکتا۔ قوم سے کہنا چاہتا ہوں کرپٹ اوربزدل حکمرانوں نے خوف دلایا ہوا ہے، انہوں نے خوف دلایا جب تک امریکا کے جوتے پالش نہیں کریں گے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے سپر پاور کے سامنے گھٹنے ٹیکے، حکمرانوں کی وجہ سے پاکستانیوں کو ذلت ملی، مجھے ہمیشہ گھٹنے ٹیکنے پر تکلیف ہوتی تھی، ہم ایک عظیم قوم ہیں، اللہ سے دعا کی تھی جب مجھے موقع ملے گا تو قوم کو کسی کے سامنے نہیں جھکنے دوں گا، اسی لیے 30 سال سے ملک لوٹنے والوں نے سازش کی، انہوں نے مشرف کی طرح مجھ سے این آراولینے کی پوری کوشش کی، کبھی لانگ مارچ اور کبھی اسمبلی میں برا بھلا کہا گیا، اپوزیشن کا ایک مقصد کرپشن کے کیسزمعاف کرانا تھا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ نے 11 سال اقتدار کی باریاں لی تھیں، مشرف نے دونوں پارٹیوں کو این آراودیا، دونوں پارٹیوں کے اقتدارکی وجہ سے 6 ہزارارب کا قرضہ 30 ہزارارب تک پہنچا، انہوں نے کرپشن کیسزمعاف کرنے کے لیے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، ہاتھ کھڑا کر کے بتاؤ کیا مجھے ان کے کرپشن کیسز معاف کرنے چاہئیں تھے؟ لندن میں بھگوڑا بیٹھا ہوا ہے۔

پی ٹی آئی چیئر مین نے مسلم لیگیوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ والو خدا کے واسطے مجھے جواب دو، کیا کبھی گیدڑ لیڈر بن سکتا ہے۔ زرداری نے کہا تھا نوازشریف اٹک جیل میں اتنا روتا تھا ٹشو ختم ہو جاتے تھے، مشرف سے معاہدہ کرکے سعودی عرب بھاگ گیا تھا، اس بار پھرجھوٹ بول کر ڈرامہ کر کے لندن بھاگ گیا،ہمارے اجلاس کے دوران شیریں مزاری بیماریاں سن کر کابینہ میں رونا شروع ہوگئی تھیں، نوازشریف جیسے جہازپرچڑھا تو بیماری ختم ہو گئی، نوازشریف جہاز کی سیڑھیاں ایسے چڑھا جیسے اولپمک کھیلنے جارہا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ والو جھوٹے آدمی کو عدالت نے سزا دی، آپ لوگ کیسے اس آدمی کے پیچھے چل سکتے ہو، چھوٹا بھائی چیری بلاسم ہے، چھوٹے بھائی نے لاہورہائیکورٹ میں نوازشریف کی واپسی کی گارنٹی دی تھی، شہباز شریف کو جھوٹی گارنٹی پربھی سزا ہونی چاہیے تھی، ان کے ساتھ وہ مل گیا جس کی آج کل قیمت بڑھانی ہے، یہ اتنے ڈرے ہوئے ہیں پٹرول کی قیمت نہیں بڑھارہے، انہوں نے امریکا کے ساتھ مل کرسازش کی۔

عمران خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب والے بتائیں اتنے زیادہ لوٹے کیوں نکلے؟ اللہ کا شکرادا کرتے ہیں آج سب ڈس کوالیفائی ہو گئے، 8مارچ کو ڈونلڈ لو سفیر کو دھمکی دی تھی، ڈونلڈ لونے کہا اگرعمران کو ہٹا دیا تو معافی مل جائے گی، کیا اس قوم کوامریکا سے معافی کی ضرورت ہے، ہم ایک خود دارقوم ہیں، بدقسمتی سے ہماری اشرافیہ امریکی دھمکی سے ڈر گئے، ملک کی ایلیٹ کلاس ڈر گئی تھی سب نے ملکر 22 کروڑ عوام کے وزیراعظم کو ہٹایا، یہ سمجھ رہے تھے تحریک انصاف دفن ہو جائے گی، اللہ کا پلان ہی کچھ اورتھا اس نے میری قوم کو جگا دیا، یاد رکھنا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب آرہا ہے، 30 سال سے لوٹ مار کرنے والوں کی اب قبریں بن رہی ہیں، قوم جاگ گئی ہے، ڈیزل کے خاندان کا بھی وقت ختم ہوگیا ہے، اسلام آباد میں عوام کا سمندرآنے والا ہے، ملتان والوں اسلام آباد کے لیے تیارہو۔

انہوں نے کہا کہ مارچ سے پہلے میرا آج آخری جلسہ ہے، انہوں نے پلان کچھ اور بنایا اللہ نے کچھ اورکردیا، شہبازشریف پہلے سے ہی نیشنل حکومت بنانے کا اعلان کررہے تھے، یہ سمجھ رہے تھے ڈیڑھ سال حکومت کریں گے، الیکشن کمیشن پہلے ہی ان کے ساتھ تھا، یہ سمجھ رہے تھے دھاندلی کے ذریعے الیکشن جیت جائیں گے، انہوں نے تو قوم کو بتایا تھا بڑے تجربہ کارہیں، وزیراعظم کو 6 ہفتے ہو گئے ہیں کہتے ہیں صبح چھ بجے جاگ جاگ جاتا ہے، چھ بجے جاگنے سے کچھ نہیں ہو گا، ڈالر 200 کا ہوگیا ہے، اب پتا چلا ہے ان کا سارا تجربہ کرپشن کا ہے، یہ جب اقتدارمیں آتے ہیں تو پیسہ بناتے ہیں اورملک مقروض ہوجاتا ہے، پچھلے ایک سال سے سازش کرنے میں لگے تھے، اب اقتدار مل گیا تو کیوں نہیں مل سنبھل رہا؟ شہبازشریف کبھی لندن بھاگتا ہے، کبھی کہتے ہیں نیشنل سکیورٹی چیزیں مہنگی کرے، 30 سال سے مقروض کرنے والے ملک کے مسئلے حل نہیں کرسکتے۔

پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مجھے کسی نے سوشل میڈیا پر تقریر بھیجی، مریم تقریر کر رہی تھی کل، اس میں اتنی دفعہ اور اس جذبے سے اور اس جنون سے میرا نام لیا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ مریم دیکھو تھوڑا دھیان کرو تمہارا خاوند ہی ناراض نہ ہوجائے جس طرح تم بار بار میرا نام لیتی ہو۔ ہمیشہ سوچتا ہوں ان کو اتنا زیادہ مجھ پرغصہ کیوں ہے، ان کے چچا، بھائیوں کو مجھ پر اتنا غصہ کیوں، ان کے سارے کیسز تو پیپلزپارٹی دور کے بنے ہوئے ہیں، شہبازشریف مقصود چپڑاسی کیس کے علاوہ باقی سب پرانے کیس ہے، مجھ پر اتنا غصہ کیا کیس معاف نہیں کرتا، مہذب معاشروں میں سب کے لیے قانون یکساں ہوتا ہے، جوقوم بڑے ڈاکوؤں کو نہ پکڑے وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے، ہمارا المیہ یہ ہے بڑے ڈاکوایوانوں میں اورچھوٹے چورجیل جاتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں آزاد عدلیہ کے لیے باہرنکلا تو 8 دن جیل میں گزارے، جیل میں کوئی طاقتور ڈاکو نظر نہیں آیا، جب قومی اسمبلی میں جاتا تھا وہاں بڑے مجرم، ڈاکو نظر آتے تھے، سوئٹرزلینڈ جیسا ملک دنیا کا امیر ترین ملک ہے، سوئٹرزلینڈ کا انصاف کا نظام چوروں کو جیل میں ڈالتا ہے، شہباز شریف اوراسکے بیٹے نے 16 ارب ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھجوائے، شہبازشریف اوراسکے بیٹے کو جب سزا ہونی تھی جنہوں نے سازش کی اسکو ملک کا وزیراعظم اور بیٹے کو وزیراعلیٰ بنا دیا، کیا اللہ کی برکت اس ملک میں آسکتی ہے جہاں غریب کوجیل میں ڈال دیا جائے، اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں،عمران خان اس لیے آپ کو اسلام آباد جانے کی دعوت دینے آیا ہوں، اسلام آباد حقیقی آزادی مارچ کے لیے سب کو تیار کرنے آیا ہوں، اگر قوم اب باہر نہ نکلی تو دوغلامیاں کریں گے، ایک امریکا کی غلامی، دوسری ملک لوٹنے والے ڈاکوؤں کی کرنی پڑے گی، کیا آپ لوگ ہو؟

انہوں نے کہا کہ ہم سب نبی ﷺ کے امتی ہیں، دنیا میں ہمارے نبی ﷺ سب سے عظیم انسان تھے، ہمارا کلمہ کہتا ہے اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکنا، ہمیں کہتے ہوروس سے سستا گندم، تیل نہیں لے سکتے، امریکی سرکار کہتی ہے روس سے تیل لینے کی اجازت نہیں ہے، بھارت امریکا کا سٹرٹیجک پارٹنر ہیں، بھارت نے امریکا کو جواب دیا آزاد ملک ہیں، روس سے تیل لیں گے، ہمارے ساتھ ہندوستان آزاد ہوا، انکی غیرت مند خارجہ پالیسی ہے، ہمارے ملک میں چیری بلاسم بوٹ پالش ہیں، شہبازشریف امریکی کو دیکھتا ہے تو کانپیں ٹانگنا شروع ہوجاتی ہیں، امریکا کو واضح کہا سب سے دوستی کریں گے کسی سے دشمنی نہیں، واضح کہا کسی کی غلامی نہیں کریں گے، امریکا کی جنگ میں 80 ہزارپاکستانیوں کی قربانیاں دیں، امریکا نے پاکستان کی قربانیوں پرایک دفعہ بھی شکریہ ادا نہیں کیا، جنگ کی وجہ سے قبائلی علاقے اجڑگئے، سوات میں40لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہمارا کیا قصورتھا؟ ہمارے ساڑھے 6 ہزارفوجیوں نے قربانیاں دیں، ہماری کیا غلطی تھی، مشرف نے گھٹنے ٹیک کرپاکستان کا نقصان کرایا، جب مجھ سے بیس مانگنے پرسوال پوچھا گیا تو’ابسولیٹلی ناٹ‘ کہا، میں نے واضح کردیا تھا امن میں ساتھ دیں گے لیکن کسی جنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔ مجھے 22 کروڑپاکستانیوں نے منتخب کیا تھا، میرا کام 22 کروڑپاکستانیوں کی جان ومال کی حفاظت کرنا ہے، روس، یوکرائن جنگ میں کہا گیا مذمت کریں، بھارت کشمیرمیں ظلم کررہا ہے کیا کبھی امریکا نے کشمیری مظالم کی مذمت کی ہے؟ اسرائیل فلسطین میں ظلم کر رہا ہے کیا امریکا میں اتنی جرات ہے مذمت کرے، نوازشریف، زرداری کی اربوں کی جائیدادیں باہراس لیے ان کے غلام ہیں، ان کوزرداری، نواز شریف کی عادت پڑی ہے، دونوں کے دورمیں 400 ڈرون حملے ہوئے، دونوں بے شرموں نے ایک دفعہ بھی مذمت نہیں کی، کیا زرداری،نوازشریف میں اتنی جرات تھی کہ برطانیہ سے پوچھتے کیا ہم لندن میں الطاف حسین پربمباری کرنے کی اجازت دوگے

ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے ملتان میں بہت گرمی ہے، جب انقلاب آتا ہے تو گرمی، بارش، سردی نہیں دیکھی جاتی، اگرمجھے گرمی نہیں لگتی تو آپ سب مجھ سے چھوٹے ہیں۔ جب مجھے ہٹایا گیا تو تب سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا تھا، سوچا تھا تنہا بھی نکلنا پڑا تو نکلوں گا، جب بھی اللہ کے پاس جاؤں گا تو کہوں گا میں نے پوری کوشش کی، مجھے اندازہ نہیں تھا پوری قوم میرے ساتھ کھڑی ہوجائے گی۔ اندازہ نہیں تھا دلیر باشعور خواتین اور سکول کے بچے بھی باہر نکلیں گے، ہرشعبے کے لوگوں نے مجھے اسلام آباد جانے کا کہا ہے، پولیس والوں نے کہا ہماری ڈیوٹی ہے لیکن گھر والے سارے جائیں گے، سول سروس کے لوگ بزدل ہوتے ہیں لیکن ان کی فیملیز نے بھی جانے کا کہا ہے، ہمارے فوجیوں کی فیملیز، سارے ریٹائرڈ فوجی بھی تیار ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آج تک فوجی قربانیاں دے رہے ہیں، غلام قوم کی کوئی قدرنہیں کرتا، اسلام آباد میں دنیا کا سب سے بڑا سمندردیکھ رہا ہوں۔ یہ سیاست سے بات اوپر چلی گئی ہے، یہ وہ انقلاب ہے جو پاکستانیوں کو ایک قوم بنا رہا ہے، ایک چھوٹے سے امریکی افسر کی کیا جرات جو 22 کروڑ پاکستانیوں کودھمکی دے، بے شرم تم ہو، تمہاری معافی کی ہمیں ضرورت نہیں

انہوں نے کہا کہ ملک کو مقروض کرنے والے ملک کے مسئلے حل نہیں کرسکتے، لندن میں بیٹھا ہوا ملک کے فیصلے کررہا ہے، کبھی آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں، کبھی لندن بھاگتے ہیں، وہ خود کو تجربہ کار کہتے تھے، اب پتا لگا ان کو سارا تجربہ کرپشن کا ہے۔

مزید پڑھیں