Advertisements

ایران امریکہ اسرائیل جنگ خطے اور دنیا کے لیے سنگین چیلنج

Advertisements

اداریہ — 5 مارچ2026

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کو محض دو ممالک کا تصادم سمجھنا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ اسرائیل اس تنازع کا ایک اہم اور عملی فریق بن چکا ہے۔ خطے میں طاقت کے توازن، سیکیورٹی خدشات اور اسٹریٹجک مفادات نے اس جنگ کو ایک تکون میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ہر اقدام کا ردِعمل وسیع تر جغرافیائی اور سیاسی اثرات پیدا کر رہا ہے۔ اسرائیل کی شمولیت نے نہ صرف عسکری محاذ کو پیچیدہ بنایا ہے بلکہ اس تنازع کو نظریاتی اور سلامتی کے دیرینہ تصورات سے بھی جوڑ دیا ہے۔

Advertisements

اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران اسرائیل کو خطے میں مغربی مفادات کا مرکز سمجھتا ہے۔ یہی باہمی بداعتمادی اب کھلے عسکری تصادم کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس میں میزائل حملے، فضائی کارروائیاں اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ لبنان، شام اور غزہ کی صورتحال بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جا رہی ہے، جہاں کسی بھی محاذ پر کشیدگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

اس جنگ کے فوری اثرات خلیجی خطے تک محدود نہیں رہے۔ آبنائے ہرمز اور مشرقی بحیرۂ روم کے سمندری راستوں میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ اخراجات میں بڑھوتری اور مالیاتی منڈیوں میں اضطراب عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی افراطِ زر اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس بحران سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

سیاسی سطح پر بڑی طاقتوں کی صف بندیاں مزید واضح ہو رہی ہیں۔ بعض ممالک اسرائیل اور امریکہ کے سیکیورٹی مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک ایران کے خلاف طاقت کے استعمال پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی سفارتی فورمز کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ آیا وہ اس بحران کو محدود رکھنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر جنگ پھیلتی ہے تو یہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی تصادم کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔

انسانی المیہ اس تمام منظرنامے کا سب سے دردناک پہلو ہے۔ شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور معیشتوں پر پڑنے والے اثرات طویل المدتی عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں۔ ماضی کی جنگوں نے ثابت کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار بھڑکنے والی آگ برسوں تک بجھ نہیں پاتی۔ موجودہ صورتحال بھی اسی خطرے کی نشاندہی کر رہی ہے۔

ایسے وقت میں ضروری ہے کہ تمام فریق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی راستوں کو ترجیح دیں۔ اسرائیل، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ دانش مندانہ قیادت، تحمل اور مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو اس آگ کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں، ورنہ یہ جنگ ایک وسیع اور تباہ کن عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔