Advertisements

مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے: ایران

"Iran Rules Out More Talks Until MoU Conditions Are Fulfilled"
Advertisements

ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یوکے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اسپیکرباقرقالیباف

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقرقالیباف نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یوکے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ باقرقالیباف نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ لبنان ایران، امریکا،لبنان میں جنگ کےخاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔

Advertisements

باقرقالیباف نے بتایا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرےگا۔ ایرانی اسپیکر باقرقالیباف نے کہاکہ ہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ باہمی مشاورت اور تبادلۂ خیال کرتے ہیں، اگر امریکا ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر کوئی بھی تیل سےفائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔