ایران: حکومت مخالف مظاہرے 100 سے زائد شہروں میں پھیل گئے، 47 افراد ہلاک
تہران: ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ، 28 دسمبر سے جاری مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 47 افراد ہلاک ہوچکے ہیں تہران اور مشہد میں رات گئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا گیا، احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوگئی ہوچکی ہےجن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد گرفتار ہیں۔ انسانی حقوق کے غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے، ایران میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر بند کردی گئی ہے جبکہ ترکیے نے استنبول سے تہران جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
ایرانی میڈیا نے کرمانشاہ میں مظاہروں کے دوران شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں نقاب پوش افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہے امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں، ایران کے کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران تخریب کاروں سے نمٹنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا، احتجاج جائز ہے مگر احتجاج اور فساد میں فرق ہے، حکومت مظاہرین سے بات کرے، تخریب کاروں سے بات کرنا فضول ہے ۔ یاد رہےکہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے عوام مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اس احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں اموات ہوچکی ہیں۔ مزید برآں امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران دھمکی دی ہے کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران کو بھرپور اور بہت سخت جواب دیں گے۔

