انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ اور رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے اشتراک سے صحافیوں کی آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کی تربیتی ورکشاپ
آن لائن ورکشاپ جرنلسٹس الائنس پاکستان، ساؤتھ پنجاب چیپٹر سے وابستہ تحصیل پریس کلبوں کے اراکین اور احمدپور یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے ارکان کے لیے منعقد کی گئی
ویانا سے جیویر لوکے کا خطاب، احسان احمد سحر، محمد سلیمان فاروقی، ڈاکٹر سیدہ ہما قاسم، اعجاز احمد خان، ارشاد احمد شاد اور شاہد بشیر چوہدری سمیت 27 رجسٹرڈ صحافیوں کی شرکت
انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان (آر ایم این پی) کے اشتراک سے جمعرات کے روز پنجاب کالج، احمدپور شرقیہ میں صحافیوں کو آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کی تربیت دینے کے لیے ایک آن لائن ورکشاپ منعقد کی۔ یہ تربیتی نشست جرنلسٹس الائنس پاکستان (جے اے پی)، ساؤتھ پنجاب چیپٹر سے وابستہ تحصیل پریس کلبوں کے اراکین اور احمدپور یونین آف جرنلسٹس ورکرز (اے یو جے ڈبلیو) کے ارکان کے لیے منعقد کی گئی۔ اس میں ان عملی اقدامات پر توجہ دی گئی جن کے ذریعے نیوز رومز آن لائن بدسلوکی کی روک تھام، ممکنہ خطرات کی نشاندہی، ہراسانی کے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور ڈیجیٹل حملوں کا نشانہ بننے والے صحافیوں کی معاونت کر سکتے ہیں۔
’’نیوز رومز آن لائن ہراسانی کے خلاف مؤثر ردعمل کیسے تیار کر سکتے ہیں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس خصوصی تربیتی نشست سے انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ، آسٹریا کے شعبۂ ڈیجیٹل میڈیا و آن لائن سیفٹی کے سربراہ جیویر لوکے نے ویانا سے آن لائن خطاب کیا۔
آر ایم این پی کے رجسٹریشن ریکارڈ کے مطابق ورکشاپ کے لیے آٹھ خواتین سمیت 27 افراد رجسٹرڈ تھے۔۔
شرکاء کا تعلق احمدپور شرقیہ، بہاولپور، اوچ شریف، مبارک پور اور چنی گوٹھ سے تھا۔ ان میں صحافی، مدیران، ٹیلی ویژن نامہ نگار، آزاد صحافی اور مقامی صحافتی تنظیموں کے ارکان شامل تھے۔
آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کے عملی طریقے
جیویر لوکے نے پریزنٹیشن اور سوال و جواب کے سیشن کے ذریعے وضاحت کی کہ میڈیا ادارے صحافیوں کو آن لائن ہراسانی سے محفوظ رکھنے، ایسے واقعات کا مؤثر جواب دینے اور پیشہ ورانہ صحافتی معیارات برقرار رکھنے کے لیے قابلِ عمل طریقۂ کار کیسے وضع کر سکتے ہیں۔
ورکشاپ میں چار بنیادی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا: مؤثر ردعمل کے طریقۂ کار کی تشکیل، احتیاطی حفاظتی اقدامات، آن لائن حملوں کا نشانہ بننے والے صحافیوں کی بحالی اور معاونت کے نظام کی فراہمی، اور ہر میڈیا ادارے کے دستیاب وسائل اور مخصوص ضروریات کے مطابق نیوز روم پروٹوکولز کی تشکیل۔
یہ ماسٹر کلاس آئی پی آئی اور فیکٹوگراف کی جانب سے 40 سے زائد نیوز رومز کے ساتھ کام کے دوران تیار کیے گئے عملی طریقوں سے استفادہ کرتی ہے۔ اس کا مقصد مدیران، نیوز روم مینیجرز اور قارئین و ناظرین سے رابطے کے ذمہ دار عملے کو ایسے مؤثر طریقۂ کار وضع کرنے میں مدد دینا ہے جن سے صحافیوں کو آن لائن بدسلوکی سے محفوظ رکھتے ہوئے میڈیا اداروں کی ساکھ بھی برقرار رکھی جا سکے۔

آر ایم این پی کے صدر احسان احمد سحر آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کی تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر احمدپور شرقیہ میں ڈاکٹر سیدہ ہما قاسم اور دیگر شرکاء میں آئی پی آئی کے تربیتی سرٹیفکیٹس تقسیم کر رہے ہیں۔
آر ایم این پی کی جانب سے آئی پی آئی کے ماہر اور شرکاء کا خیرمقدم
رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کی جانب سے آر ایم این پی کی ویمنز ونگ کوآرڈینیٹر، بہاولپور، ڈاکٹر سیدہ ہما قاسم نے استقبالیہ کلمات ادا کیے۔ انہوں نے جیویر لوکے اور آئی پی آئی کی منیجر برائے ممبرشپ اینڈ انگیجمنٹ، گریس لنکزر، کا خیرمقدم کیا اور خصوصی تربیتی نشست کے انعقاد میں تعاون پر آئی پی آئی کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر سیدہ ہما قاسم نے جرنلسٹس الائنس پاکستان (جے اے پی)، ساؤتھ پنجاب چیپٹر سے وابستہ تحصیل پریس کلبوں کے اراکین اور احمدپور یونین آف جرنلسٹس ورکرز (اے یو جے ڈبلیو) کے ارکان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں صحافیوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تربیتی نشست سے شرکاء کو ایسی عملی رہنمائی حاصل ہوگی جسے وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران، بالخصوص آن لائن ہراسانی اور بدسلوکی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے جیویر لوکے کو تربیتی نشست شروع کرنے کی دعوت دی۔
حساس تربیتی نشست کے دوران آر ایم این پی کے صدر کی ذاتی موجودگی
آر ایم این پی کے صدر احسان احمد سحر اس حساس تربیتی نشست کے دوران خود موجود رہے۔ ان کی موجودگی صحافیوں کے ڈیجیٹل تحفظ اور آن لائن ہراسانی کے معاملات کو ذمہ داری سے نمٹانے کے لیے آر ایم این پی کی سنجیدگی اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
شرکاء میں آئی پی آئی کے سرٹیفکیٹس تقسیم
ورکشاپ کے اختتام پر آئی پی آئی کے سرٹیفکیٹس آر ایم این پی کے صدر اور جرنلسٹس الائنس پاکستان کے بانی احسان احمد سحر اور جے اے پی کے رورل اینڈ ٹاؤن پریس کلبز، ساؤتھ پنجاب چیپٹر کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین محمد سلیمان فاروقی نے شریک صحافیوں اور خواتین معاونینِ صحافت میں تقسیم کیے۔
اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز، مقامی پریس کلبوں اور آزادانہ صحافت سے وابستہ افراد کی شرکت اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ ڈیجیٹل تحفظ کی تربیت بڑے میڈیا مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے دیہی اضلاع اور قصبوں میں کام کرنے والے صحافیوں تک بھی پہنچائی جائے۔

جرنلسٹس الائنس پاکستان کے رورل اینڈ ٹاؤن پریس کلبز، ساؤتھ پنجاب چیپٹر کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین محمد سلیمان فاروقی احمدپور شرقیہ میں اختتامی نشست کے موقع پر مرد شرکاء میں آئی پی آئی کے تربیتی سرٹیفکیٹس تقسیم کر رہے ہیں۔
آر ایم این پی کے صدر کا آئی پی آئی کی قیادت سے اظہارِ تشکر
آر ایم این پی کی درخواست پر اس تربیتی نشست کے انعقاد پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے احسان احمد سحر نے انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسکاٹ گریفن، آئی پی آئی کی منیجر برائے ممبرشپ اینڈ انگیجمنٹ گریس لنکزر اور شعبۂ ڈیجیٹل میڈیا و آن لائن سیفٹی کے سربراہ جیویر لوکے کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے جنوبی پنجاب کے صحافیوں کے لیے یہ خصوصی تربیت ممکن بنانے میں آئی پی آئی کی قیادت اور متعلقہ ٹیم کے تعاون کو سراہا۔
یہ ورکشاپ آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کے لیے صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور نیوز رومز کی تیاری بہتر کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھی، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں صحافیوں کو خصوصی پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع محدود پیمانے پر دستیاب ہوتے ہیں۔
رجسٹرڈ شرکاء کی مکمل فہرست
آر ایم این پی کی جانب سے فراہم کردہ رجسٹریشن ریکارڈ کے مطابق ورکشاپ کے لیے درج ذیل 27 افراد رجسٹرڈ تھے:
احسان احمد سحر — کوآرڈینیٹر۔
ڈاکٹر سیدہ ہما قاسم — آر ایم این پی ویمنز کوآرڈینیٹر، بہاولپور سٹی۔
محمد سلیمان فاروقی — چیئرمین، اسٹیئرنگ کمیٹی، جے اے پی ساؤتھ پنجاب چیپٹر۔
سید عمار علوی — جے اے پی کے نامہ نگار، وقت ٹی وی چینل، بہاولپور۔
محمد اکمل شیخ — ڈسٹرکٹ رپورٹر، دنیا نیوز ٹی وی چینل، بہاولپور۔
اعجاز احمد خان — ایڈیٹر، روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ؛ جے اے پی ساؤتھ پنجاب چیپٹر۔
محمد مکی حیدر جلوانہ — نامہ نگار، روزنامہ اوصاف۔
ضیاء الحق شہزاد — تحصیل رپورٹر، دنیا ٹی وی چینل۔
ملک رشاد محمود چنڑ — نامہ نگار، روزنامہ آفتاب؛ اے یو جے ڈبلیو۔
چوہدری احمد علی — نامہ نگار، روزنامہ جوشیلا؛ اے یو جے ڈبلیو۔
راشد عزیز ہاشمی — نامہ نگار، روز نیوز ٹی وی چینل؛ جے اے پی تحصیل پریس کلبز کمیٹی کے رکن۔
حمید اللہ خان عزیز — مدیر، تفہیم الاسلام؛ اے یو جے ڈبلیو۔
خادم حسین سومرو — نامہ نگار، ٹوئنٹی فور نیوز ٹی وی چینل؛ صدر، رجسٹرڈ احمدپور میڈیا کلب۔
وسیم سجاول — آزاد صحافی؛ اے یو جے ڈبلیو۔
شبیر احمد قریشی — اسٹاف رپورٹر، روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ؛ اے یو جے ڈبلیو۔
سید تنویر الحسن بخاری — نامہ نگار، روزنامہ پاکستان؛ وائس چیئرمین، اسٹیئرنگ کمیٹی، جے اے پی ساؤتھ پنجاب چیپٹر۔
عمران معید پرواز — آزاد صحافی۔
معاذ فاروقی — آزاد صحافی؛ اے یو جے ڈبلیو۔
محترمہ منہال فاطمہ — اے یو جے ڈبلیو۔
محترمہ عائشہ جہانگیر — اے یو جے ڈبلیو۔
محترمہ رمشا یونس — اے یو جے ڈبلیو۔
محترمہ فروہ ارشاد — اے یو جے ڈبلیو۔
محترمہ ثناء تبسم — اے یو جے ڈبلیو۔
محترمہ دعا اسلام — اے یو جے ڈبلیو۔
محترمہ علشبہ رشید — اے یو جے ڈبلیو۔
ارشاد احمد شاد — کو چیئرمین، جے اے پی ساؤتھ پنجاب چیپٹر۔
شاہد بشیر چوہدری — چیف آرگنائزر، جے اے پی ساؤتھ پنجاب چیپٹر؛ نامہ نگار، روزنامہ جنگ۔
اس فہرست میں صحافیوں، مدیران، نامہ نگاروں، آزاد صحافیوں اور مقامی میڈیا و صحافتی تنظیموں سے وابستہ خواتین کے نام شامل ہیں۔
مزید تربیت کے لیے آئی پی آئی کا آن لائن کورس
شرکاء کو آئی پی آئی کے آن لائن کورس ’’آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کے لیے نیوز رومز کے مؤثر پروٹوکولز کی تشکیل‘‘ سے استفادہ کرنے کی ترغیب دی گئی۔ یہ کورس آن لائن بدسلوکی کے خلاف نیوز رومز کا مؤثر ردعمل وضع کرنے کے حوالے سے مزید رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
آئی پی آئی اور آر ایم این پی کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس تربیتی نشست نے احمدپور شرقیہ اور گردونواح کے صحافیوں کو ڈیجیٹل تحفظ اور نیوز رومز کی تیاری کے عملی طریقے سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔
رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان (آر ایم این پی) کے بارے میں: 2004ء میں قائم ہونے والا رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان پریس کی آزادی، صحافیوں کے تحفظ، پیشہ ورانہ صحافت اور میڈیا کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے کام کرتا ہے، جس میں بالخصوص دیہی پاکستان پر توجہ دی جاتی ہے

