ابلاغیات میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت: وقت کی ناگزیر ضرورت
اداریہ — 17 جنوری 2026
موجودہ ڈیجیٹل دور میں ابلاغیات محض خبر رسانی تک محدود نہیں رہا بلکہ تیز رفتاری، درستی، تجزیاتی صلاحیت اور اثر پذیری اس کے بنیادی تقاضے بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ابلاغیات کی تعلیم اور عملی صحافت میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت کسی انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اس حقیقت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ابلاغیات کے شعبے کو جدید، مؤثر اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور معلوماتی ٹیکنالوجی کی جدید جہات سے آراستہ کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے یہ بات ریجنل ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز بہاول پور ڈاکٹر ناصر حمید سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وائس چانسلر کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نہ صرف مختصر تربیتی کورسز متعارف کروا رہی ہے بلکہ ابلاغیات کے نصاب کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کے ادارے خبروں کی تیاری، تصدیق، تجزیاتی صحافت، قارئین و ناظرین کے رجحانات کے جائزے اور کثیرالجہتی مواد کی تیاری کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اگر جامعات بروقت اپنے تعلیمی نظام کو ان تقاضوں کے مطابق نہ ڈھالیں تو فارغ التحصیل طلبہ عملی میدان میں پیچھے رہ جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس تناظر میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کا اقدام نہایت بروقت اور قابلِ تحسین ہے۔
تاہم یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ صحافتی اخلاقیات، ذمہ دارانہ رپورٹنگ، جھوٹی خبروں کی روک تھام اور معلوماتی تحفظ جیسے پہلوؤں کی تعلیم یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ ایک متوازن نصاب ہی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی عوامی مفاد اور سماجی ذمہ داری کے دائرے میں استعمال ہو۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز حکومتِ پنجاب اور ڈویژنل انفارمیشن آفس بہاول پور کا جامعات کے ساتھ تعاون ایک مثبت پیش رفت ہے، جو تعلیمی ترقی، سماجی آگاہی اور نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخرکار، ابلاغیات میں مصنوعی ذہانت کی مؤثر اور ذمہ دارانہ شمولیت ہی وہ راستہ ہے جو مستقبل کے صحافیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، باخبر اور ذمہ دار بنا سکتی ہے—اور یہی ایک مضبوط، شفاف اور باخبر معاشرے کی بنیاد ہے۔

