پولیس اہلکاروں کی کرپشن اور اختیارات سے تجاوز پر فی الفور نوٹس لیا جائے گا آر پی او غازی محمد صلاح الدین
مجرمانہ سرگرمیوں پر محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی آر پی او بہاولپور کی زیر صدارت آر پی او آفس میں اہم اجلاس
بہاولپور:آر پی او آفس بہاولپور میں ریجنل پولیس آفیسر غازی محمد صلاح الدین کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی پی او بہاولنگر عمران کھوکھر، ڈی پی او بہاولپور رانا عبدالوہاب، ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سمو، ایس پی سیف سٹی محمد کاشف عبداللہ، اے ڈی آئی جی / ڈی ایس پی محمد یونس، آر ٹی او بہاولپور اور ڈی ٹی اوز نے شرکت کی۔اجلاس میں ریجن بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سنگین جرائم کی روک تھام اور پولیس کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اہم امور زیر بحث آئے جن میں فیٹل ایکسیڈنٹس، کیٹیگری “A” کے اشتہاری مجرمان کی گرفتاری، خودکار اسلحہ کی برآمدگی، منشیات کی برآمدگی، زیر التواء چالان ، لاپتہ خواتین و بچوں کی بازیابی اور جاری ترقیاتی منصوبہ جات ADP سکیمز شامل تھے۔آر پی او بہاولپور نے ہدایت کی کہ کیٹیگری “A” کے اشتہاری مجرمان کی گرفتاری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے منشیات فروشوں اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور ان کے نیٹ ورک کے خاتمے پر زور دیا۔آر پی او نے سختی سے ہدایت کی کہ ساؤنڈ ایکٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید برآں آر ٹی او اور ڈی ٹی اوز کو ہدایت کی گئی کہ روڈ سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ چوکوں اور سڑکوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات، جو ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بن رہی ہیں، انہیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر فوری طور پر ختم کیا جائے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے تاکہ حادثات میں کمی لائی جا سکے۔آر پی او بہاولپور نے زیر التواء مقدمات کے چالان بروقت عدالتوں میں پیش کرنے، لاپتہ خواتین و بچوں کی جلد از جلد بازیابی کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے اور ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی۔آر پی او بہاولپور نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی پولیس کی اولین ترجیح ہے ۔پولیس اہلکاروں کی کرپشن اور اختیارات سے تجاوز پر فی الفور نوٹس لیا جائے گا اور مجرمانہ سرگرمیوں پر محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

