Advertisements

آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم: پولیس اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام اور پالیسی تسلسل کا امتحان

Advertisements

اداریہ —– 5 نومبر 2026

پنجاب میں انسپکٹر جنرل پولیس راؤ عبدالکریم کی تعیناتی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب صوبے کو امن و امان، جرائم کے بدلتے ہوئے رجحانات اور پولیسنگ کے عوامی اعتماد جیسے پیچیدہ چیلنجز درپیش ہیں۔ نئے آئی جی کی جانب سے لاء اینڈ آرڈر کے مؤثر کنٹرول، پولیس ویلفیئر اور غیر ضروری اکھاڑ پچھاڑ سے گریز پر زور دینا ایک متوازن اور اصلاحاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

Advertisements

پولیس نظام میں سب سے بڑا مسئلہ پالیسی عدم تسلسل رہا ہے۔ ہر نئی تعیناتی کے ساتھ ترجیحات کا بدل جانا ادارہ جاتی کمزوری کو جنم دیتا ہے۔ اس تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق جاری منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان ایک مثبت اشارہ ہے، بشرطیکہ اس پر عملی طور پر کاربند رہا جائے۔

پولیس فورس کی ویلفیئر کسی بھی اصلاحاتی ایجنڈے کی بنیاد ہوتی ہے۔ بہتر مراعات، محفوظ ڈیوٹی ماحول اور میرٹ پر مبنی نظام کے بغیر مؤثر پولیسنگ ممکن نہیں۔ اسی طرح کارکردگی کو معیار بنانے کا اعلان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ احتساب کا نظام شفاف، غیر جانبدار اور ادارہ جاتی ہو، نہ کہ شخصی پسند و ناپسند پر مبنی۔

راؤ عبدالکریم کا فیلڈ اور انتظامی تجربہ انہیں پالیسی اور زمینی حقائق کے درمیان پل بنانے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اصل امتحان یہ ہے کہ آیا وہ سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر ادارہ جاتی خود مختاری کو یقینی بنا پاتے ہیں یا نہیں۔ پولیس اصلاحات محض انتظامی فیصلوں سے نہیں بلکہ واضح پالیسی فریم ورک، ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی اور مستقل نگرانی سے ہی کامیاب ہو سکتی ہیں۔

اگر نئے آئی جی اپنی ترجیحات کو وقتی بیانات کے بجائے مستقل اصلاحاتی پالیسی میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پنجاب پولیس نہ صرف امن و امان کے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکے گی بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب بھی ایک اہم قدم اٹھایا جا سکے گا۔