Advertisements

ضرورت پڑنے پر ایران میں اپنی فوج بھی اتار سکتے ہیں؛ ڈونلڈ ٹرمپ

If Necessary, We Can Deploy Our Troops in Iran, Says Donald Trump
Advertisements

ایران میں فوجی کارروائی صرف ابتدا، ’بڑی لہر‘ آنا ابھی باقی ہے امریکی صدر

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی کارروائی ایران کے خلاف صرف ابتدا ہے، ’بڑی لہر‘ ابھی آنا باقی ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل خطے کیلئے خطرہ تھے،ایران بیلسٹک میزائل اور جوہری ہتھیار بنا رہا تھا،ایران کے طویل فاصلوں تک مار کرنیوالے میزائل خطرہ ہیں۔

Advertisements

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی سائٹس کو نشانہ بنایا،ہم نے ماضی میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، یقینی بنانا چاہتے ہیں ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے،ایران کی طرف زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ایران کے پاس امریکا تک پہنچنے والے میزائل تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملوں میں ان کے 49رہنماؤں کو مارا،ایران میں بہت جلد بڑی کارروائی کی ضرورت پڑسکتی ہے، ،ایران نے ہماری وارننگز کو نذرانداز کیا،ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے،ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنا پہلی ترجیحی ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان امریکی فضائی اور بحری کارروائیوں کے بعد آیا ہے، جن میں ایران کی بیلسٹک میزائل، بحری اور نیوکلیئر صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران جنگ صرف نام نہاد حکومت کی تبدیلی کی جنگ نہیں، ایران میں امریکی مشن کا مقصد ایران کے میزائلوں کو تباہ کرنا تھا، جنگ امریکا فرسٹ کی شرائط پر ختم کریں گے۔ واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران میں امریکی مشن کا مقصد ایران کے جوہری ہتھیاروں سے انکار کرنا ہے، یہ عراق نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی لامحدود جنگ ہے، ایران پر آپریشن میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، ہم یہ جنگ امریکا فرسٹ کی شرائط پر ختم کریں گے۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ نام نہاد نظام کی تبدیلی کی جنگ نہیں ہے، لیکن نظام ضرور بدل گیا ہے اور دنیا اس سے بہتر ہوئی ہے، امریکا نے یہ جنگ شروع نہیں کی، بلکہ ایران کئی دہائیوں سے امریکا کے خلاف ’یکطرفہ جنگ‘ جاری رکھے ہوئے تھا، موجودہ کارروائیاں اسی سلسلے کا جواب ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ہم اسے ختم کررہے ہیں۔