حکیم ممتاز حسین کو تین سال قید اور ڈھائی کروڑ روپے جرمانے کی سزا
ہربل ادویات میں ایلوپیتھک ادویات اور سٹیرائڈز کی آمیزش ثابت ہونے پر ڈرگ کورٹ بہاولپور ڈویژن نے فیصلہ سنا دیا
ڈرگ کورٹ بہاولپور ڈویژن چیئرپرسن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شازب سعید،اور ممبرون راؤ انجم جمیل اور ممبر ٹو ڈاکٹر محمد عارف غوری پر مشتمل ہے ،2024تا 2026تک مقدمہ کی سماعت کے بعد فیصلہ صادر کیا گیا
بہاولپور (نامہ نگار)ڈرگ کورٹ بہاولپور ڈویژن نے ہربل ادویات میں ایلوپیتھک ادویات اور سٹیرائڈز کی آمیزش کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے حکیم ممتاز حسین کو تین سال قید اور ڈھائی کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق سال 2020ء میں ڈرگ انسپکٹر نے حکیم ممتاز حسین کے دواخانے کا معائنہ کیا اور وہاں موجود مختلف ہربل ادویات کے نمونے قبضہ میں لے کر تجزیے کے لیے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری بہاولپور بھجوائے گئے۔
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ میں مذکورہ ہربل ادویات میں سٹیرائڈز سمیت ایلوپیتھک ادویات کے اجزاء کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ 2024ء میں ڈرگ کورٹ بہاولپور ڈویژن میں پیش ہوا، جہاں 2024ء سے 2026ء تک فریقین کے وکلاء نے مقدمہ کی پیروی کی۔ دورانِ سماعت عدالت کے سامنے مختلف دستاویزات، لیبارٹری رپورٹ، شواہد اور دیگر متعلقہ ریکارڈ پیش کیا گیا۔تمام دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ڈرگ کورٹ بہاولپور ڈویژن کے چیئرپرسن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شازب سعید، ممبر ون راؤ انجم جمیل اور ممبر ٹو ڈاکٹر محمد عارف غوری پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے حکیم ممتاز حسین کو تین سال قید اور ڈھائی کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔عدالتی فیصلے کو ادویات کے معیار، رجسٹریشن اور عوام کو محفوظ و معیاری ادویات کی فراہمی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

