Advertisements

گورنر راج یا ایمرجنسی، فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا: اعظم نذیر تارڑ

Law Minister Azam Nazir Tarar
Advertisements

رہائی کا آرڈر حکومت نے کرنا ہے یا عدالت نے کرنا ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، عدالت کا جو فیصلہ ہوگا من و عن تسلیم ہوگا وفاقی وزیر قانون

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ آج کی ملاقات کا گورنر راج یا ایمرجنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا، پیپلزپارٹی ہماری حلیف جماعت ہے، لیجسلیٹو سیشن سے پہلے انہیں معمول کے مطابق اعتماد میں لیتے ہیں۔

Advertisements

اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی پر میرا جو موقف پرسوں تھا، آج بھی وہی ہے، آئینی اور قانونی تقاضے پورے ہوں تو یہ ایک قانونی طریقہ کار ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا، جن کا آئین میں ذکر ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ رہائی کا آرڈر حکومت نے کرنا ہے یا عدالت نے کرنا ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، عدالت کا جو فیصلہ ہوگا من و عن تسلیم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو مطالبہ ناجائز ہو تو اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے، خیبرپختونخوا میں جو حالات ہیں کیا وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی ہے کہ آپ ہماری جگہ ہوتے تو آپ کا موقف کیا ہوتا، ہم عوامی سطح پر گفتگو کرتے ہوں تو ہماری گفتگو نپی تلی ہونی چاہیے