گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا حکومتی فیصلہ
اداریہ — 8 جنوری 2026
ملک میں جاری معاشی دباؤ، مہنگائی کی بلند شرح اور توانائی کے بحران کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ چھ ماہ کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق یکم جنوری 2026 سے گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری کر دیا جائے گا۔
گزشتہ چند برسوں میں گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بار بار اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے روزمرہ اخراجات میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ صنعت و تجارت بھی توانائی کی بلند لاگت کے باعث مشکلات سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں گیس کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا عوام اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے ایک وقتی سہی، مگر اہم ریلیف ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں گیس کی قیمتوں پر ہر چھ ماہ بعد نظرِثانی کی جاتی ہے اور اکثر اس عمل کا نتیجہ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ حکومت کا موجودہ فیصلہ اس روایت سے ہٹ کر ہے، جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ عوامی مشکلات کو کسی حد تک تسلیم کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ توانائی کے شعبے کو گردشی قرضے، گیس کی قلت، لائن لاسز اور ناقص انتظامی ڈھانچے جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں صرف قیمتوں کو منجمد کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ گیس چوری کے خاتمے، نظام میں شفافیت، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور متبادل توانائی کے فروغ پر بھی عملی اقدامات کرے۔ اگر یہ بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام ہی پر ڈالنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ موجودہ حالات میں درست سمت میں ایک قدم ہے، مگر عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب توانائی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات کے ذریعے مہنگائی کے مستقل دباؤ کو کم کیا جائے۔ محض عارضی فیصلوں سے عوام کی مشکلات کا مکمل ازالہ ممکن نہیں۔

