Advertisements

پاکستان کی سکیورٹی اور قومی استحکام کیلئے گڈ گورننس ناگزیر ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

Director General ISPR
Advertisements

  پاکستان کی آبادی  1972  میں   تقریباً 7 سے 8 کروڑ تھی، جو اب بڑھ کر 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچہ اب بھی چار صوبوں پر مشتمل ہے، اس صورتحال میں نئے تقاضوں کے مطابق سوچنے کی ضرورت ہے۔

آئین کے مطابق مسائل کے حل کے لیے عوام کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے، اگر عوام موجودہ گورننس سے مطمئن ہیں تو یہ ایک مثبت بات ہے، لیکن اگر اطمینان نہیں تو پھر آئینی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری

Advertisements

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اور قومی استحکام کے لیے گڈ گورننس بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ مسائل کے مؤثر حل کے لیے انتظامی نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔ نسداد دہشتگردی اور سکیورٹی کے معاملات پریس بریفنگ کے دوران صحافی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹ بنانے کے بیان سے متعلق سوال کیا جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے میں اس پر رائے زنی نہیں کرنا چاہتا تاہم پھر بھی اتنا ضرور کہوں گا کہ گڈ گورننس پاکستان کے استحکام اور سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1972 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 7 سے 8 کروڑ تھی، جو اب بڑھ کر 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچہ اب بھی چار صوبوں پر مشتمل ہے، اس صورتحال میں نئے تقاضوں کے مطابق سوچنے کی ضرورت ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر قومی مسائل کا حل ممکن نہیں، اگر مؤثر گورننس کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس پر غور ہونا چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق مسائل کے حل کے لیے عوام کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے، اگر عوام موجودہ گورننس سے مطمئن ہیں تو یہ ایک مثبت بات ہے، لیکن اگر اطمینان نہیں تو پھر آئینی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی کہنا تھا کہ جس سسٹم کے اندر ہم رہ رہے ہیں وہ کولیپس کر چکا ہے، مانیں یا نہ مانیں، ہم سب جمہوریت چاہتے ہیں اور جمہوریت کے بڑے سپورٹر ہیں، جمہوریت کے اندر بھی تین، چار نظام ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے سسٹم میں اصلاحات ضروری ہیں، سیاسی نظام چلانے والے بھی اسی ہال میں موجود ہیں اور سیاسی نظام کو فنڈنگ کرنے والے بھی یہی بیٹھے ہیں، کوئی کسی مجبوری اور کوئی کسی مجبوری میں فنڈنگ دیتا ہے، جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا، اس نظام میں ہر چیز بری نہیں ہے۔