جیو نیوز پر 15 روزہ معطلی ختم، ایک کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد نشریات بحال، پیمرا کا ذمہ دار عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم
حتمی فیصلے میں ادارتی نگرانی کے مزید سخت قواعد متعارف، آئندہ خلاف ورزی پر لائسنس منسوخی کی تنبیہ
اسلام آباد: جیو نیوز نے اتوار کی علی الصبح 15 روزہ معطلی مکمل ہونے کے بعد اپنی نشریات دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس مقدمے کی اہمیت محض ایک ٹیلی ویژن چینل تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے نشریاتی شعبے پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔
ہفتہ کے روز جاری کیے گئے اپنے تفصیلی حتمی فیصلے میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے محرم کے پروگرام سفرِ عشق کی نشریات کے حوالے سے جیو نیوز کی معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے متعدد نئی ہدایات جاری کی ہیں، جو پاکستان کی ٹیلی ویژن صنعت میں ادارتی نگرانی اور ضابطہ جاتی عمل کو نئی شکل دے سکتی ہیں۔
اہم نکات
ایک کروڑ روپے جرمانے کی ادائیگی کے بعد نشریات بحال: جیو نیوز کو 12 جولائی کی نصف شب ختم ہونے والی 15 روزہ معطلی مکمل کرنے اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد ہی دوبارہ نشریات کی اجازت دی گئی۔
ذمہ دار عملے کے خلاف کارروائی کا حکم: پیمرا نے جیو نیوز انتظامیہ کو ہدایت کی کہ نشریات کے ذمہ دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی مکمل کی جائے اور متعلقہ قوانین کے مطابق انہیں ملازمت سے برطرف کیا جائے۔
معذرت کے باوجود خلاف ورزی برقرار قرار
ریگولیٹر نے قرار دیا کہ پروگرام میں مذہبی مناظر کی پیشکش نشریاتی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ اگرچہ اتھارٹی نے چینل کی جانب سے غفلت کا اعتراف، اظہارِ افسوس اور غیر مشروط عوامی معافی کو رعایتی عوامل کے طور پر تسلیم کیا، تاہم واضح کیا کہ ان اقدامات سے نہ تو خلاف ورزی ختم ہوتی ہے اور نہ ہی قانونی ذمہ داری سے استثنا حاصل ہوتا ہے۔
پورے نشریاتی شعبے کے لیے نئی ہدایات
پیمرا نے تمام ٹیلی ویژن لائسنس ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر جانبدار اور اہل اِن ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹیاں یا ادارتی بورڈ قائم کریں جو کسی بھی مواد کی نشریات سے قبل اس کا جائزہ لیں۔ تمام چینلز کو ان اداروں کی تفصیلات پیمرا کو فراہم کرنا ہوں گی اور مستقبل میں خلاف ورزیوں سے بچنے کے لیے اپنے داخلی ادارتی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
اتھارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تمام نشریاتی اداروں کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخود نوٹس کیس نمبر 28 آف 2018 (PLD 2019 SC 1) کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے علیحدہ ہدایات جاری کرے گی، جس سے ادارتی معیار پر مزید سخت نگرانی کا اشارہ ملتا ہے۔
پیمرا نے خبردار کیا کہ مستقبل میں اسی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر مزید سخت قانونی کارروائی، حتیٰ کہ نشریاتی لائسنس کی منسوخی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
انفرادی ذمہ داری کا تعین
فیصلے میں ادارتی فیصلوں میں شامل افراد کی ذاتی ذمہ داری بھی متعین کی گئی ہے۔ پیمرا نے جیو نیوز انتظامیہ کو ذمہ دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی مکمل کرکے انہیں برطرف کرنے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں فیصلہ کیا گیا کہ ایسی کارروائی کے تحت برطرف ہونے والا کوئی بھی شخص مستقبل میں کسی بھی پیمرا سے لائسنس یافتہ، رجسٹرڈ یا مجاز میڈیا ادارے میں براہِ راست یا بالواسطہ کام نہیں کر سکے گا۔
یہ فیصلہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے نشریاتی شعبے میں ادارتی عملے کے خلاف کی جانے والی مضبوط ترین ضابطہ جاتی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
اس معطلی نے بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کی۔ رواں ماہ کے آغاز میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے پیمرا سے معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں سرکاری مداخلت میں سنگین اضافہ قرار دیا تھا۔ تنظیم کا مؤقف تھا کہ نشریاتی اداروں کے خلاف ضابطہ جاتی اقدامات متناسب ہونے چاہییں اور عوام کی خبروں تک رسائی کو غیر ضروری طور پر محدود نہیں کرنا چاہیے۔
وسیع تر اثرات
اگرچہ جیو نیوز کی نشریات بحال ہو چکی ہیں، تاہم پیمرا کا حتمی فیصلہ خود معطلی سے کہیں زیادہ وسیع اور دیرپا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ادارتی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے، انفرادی احتساب کو لازمی قرار دینے اور آئندہ خلاف ورزیوں پر سخت سزاؤں کی وارننگ کے ذریعے پیمرا نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے ٹیلی ویژن نشریاتی شعبے میں ضابطہ جاتی نگرانی مزید سخت ہونے جا رہی ہے۔
ماخذ: رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان

