غزہ: بگڑتی انسانی صورتحال اور اسلامی دنیا کی مشترکہ آواز
اداریہ — 4 جنوری 2026
غزہ کی پٹی ایک مرتبہ پھر شدید انسانی المیے کی علامت بن چکی ہے۔ جاری تنازع، طویل محاصرہ اور اب سخت و غیر مستحکم موسمی حالات نے وہاں کے حالات کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ شدید سردی، بارشوں اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے لاکھوں بے گھر فلسطینیوں، بالخصوص بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کی زندگیوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ غزہ کا بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی انسانی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ اس بیان میں جس طرح انسانی امداد تک ناکافی رسائی، بنیادی اشیائے ضرورت کی شدید قلت اور امدادی سامان کی سست رفتار ترسیل پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، وہ زمینی حقائق کی درست عکاسی کرتا ہے۔
غزہ میں بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے شدید سرد موسم کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ صاف پانی، ادویات، خوراک اور عارضی رہائش کی کمی نے بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں امدادی اداروں کی خدمات قابلِ تحسین ہیں جو جان کی بازی لگا کر انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ان اداروں کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
وزرائے خارجہ کی جانب سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کی حمایت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان قراردادوں اور منصوبوں پر مؤثر اور غیر جانبدارانہ عملدرآمد کب اور کیسے ہوگا؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ فلسطین کے معاملے میں عالمی برادری کے بیانات تو بہت ہوتے ہیں، لیکن عملی اقدامات ہمیشہ کمزور اور تاخیر کا شکار رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر نہ کرے۔ اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالا جائے تاکہ غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جا سکے، اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی فوری طور پر عمل میں لائی جائے اور رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھول کر انسانی آمد و رفت اور امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنایا جائے۔
غزہ کے عوام کو محض ہمدردی نہیں، بلکہ فوری، مؤثر اور عملی حمایت کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی ضمیر آج بھی خاموش رہا تو تاریخ اس بے حسی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اسلامی ممالک کی مشترکہ آواز ایک مثبت قدم ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ یہ آواز عملی اقدامات میں ڈھلے اور غزہ کے مظلوم عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

