غزہ بورڈ آف پیس اور پاکستان کا کردار
اداریہ —– 24 جنوری 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا اعلان اور اس پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے دستخط ایک اہم عالمی پیش رفت ہے، جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری مسلم دنیا میں بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ خبر ڈیلی نواۓ احمد پور شرقیہ کے آن لائن اور پرنٹ دونوں ایڈیشنز میں شائع ہوچکی ہے، جو اس معاملے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
غزہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بدترین انسانی المیے کا شکار ہے۔ مسلسل بمباری، شہری آبادی کی تباہی، بچوں اور خواتین کی شہادتیں اور بنیادی سہولیات کی عدم دستی نے عالمی ضمیر کو بارہا جھنجھوڑا، مگر بدقسمتی سے عملی اقدامات ہمیشہ کمزور ثابت ہوئے۔ ایسے میں کسی بھی ’’امن منصوبے‘‘ کا اعلان فطری طور پر امید بھی پیدا کرتا ہے اور سوالات بھی۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، دو ریاستی حل اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے بورڈ آف پیس پر دستخط اسی اصولی مؤقف کے تسلسل کے طور پر دیکھے جانے چاہئیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ بورڈ واقعی غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد اور منصفانہ سیاسی حل کی جانب پیش رفت کرسکے گا یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک سفارتی علامت بن کر رہ جائے گا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ غزہ کا مسئلہ صرف انسانی نہیں بلکہ گہرا سیاسی تنازع ہے، جس کا حل طاقت کے توازن یا یکطرفہ فیصلوں سے ممکن نہیں۔ اگر کسی عالمی فورم یا بورڈ کا مقصد واقعی امن ہے تو اسے فلسطینی عوام کی مرضی، ان کی نمائندہ قیادت اور زمینی حقائق کو بنیاد بنانا ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ موقع سفارتی آزمائش بھی ہے۔ ایک جانب عالمی برادری کے ساتھ تعاون ضروری ہے، تو دوسری جانب قومی اور اسلامی مؤقف سے انحراف کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یہی توازن پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اصل پہچان رہا ہے اور مستقبل میں بھی اسے برقرار رکھنا ناگزیر ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ غزہ کے نام پر بننے والے کسی بھی عالمی فورم کو محض سیاسی تشہیر کے بجائے حقیقی امن، انصاف اور انسانی وقار کی بحالی کا ذریعہ بنایا جائے۔ اگر یہ بورڈ فلسطینی عوام کو تحفظ، امداد اور حق دلانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا، بصورتِ دیگر تاریخ اسے ایک اور ناکام عالمی تجربے کے طور پر یاد رکھے گی۔
پاکستانی قوم کی توقع یہی ہے کہ ان کے منتخب نمائندے ہر عالمی فورم پر مظلوموں کی آواز بنیں گے اور اصولی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

