Advertisements

وینزویلا سے پیٹرول کی منتقلی؟ امریکا نے 2 روسی تیل بردار جہاز ضبط کرلیے

Fuel Transfer from Venezuela? US Seizes Two Russian Oil Tankers
فوٹو: ایکس/ یو ایس یورپیئن کمانڈ
Advertisements

ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ تیل بردار جہازوں کے خلاف یہ کارروائیاں پیٹرول کی غیر قانونی تجارت اور پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کا حصہ ہیں

امریکی افواج نے بحر اوقیانوس پر دو تیل بردار جہازوں کو پکڑ کر عملے کو تحویل میں لے لیا جو مبینہ طور پر وینزویلا سے غیر قانونی طور پر تیل منتقل کررہے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ تیل بردار جہازوں کے خلاف یہ کارروائیاں پیٹرول کی غیر قانونی تجارت اور پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کا حصہ ہیں۔ امریکی حکام نے بتایا کہ پہلا جہاز جسے ضبط کیا گیا اس پر روس کا پرچم لہرا رہا تھا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ جہاز امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا تھا اور اسی لیے امریکی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت قبضے میں لیا گیا۔

Advertisements

بحراوقیانوس کی امریکی یورپی کمانڈ کے بیان میں کہا گیا کہ کوئسٹ گارڈ کٹر نے جہاز کا تعاقب کیا اور اسے روک کر ضبط کیا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یہ جہاز وینزویلا سے غیر قانونی تیل برآمد کرنے میں ملوث تھا جس پر امریکا نے پابندی عائد کررکھی ہے۔ دوسرا تیل بردار جہاز جسے امریکی فورسز نے قبضے میں لیا وہ ایم ٹی صوفیہ نامی تھا جسے کریبین کے پانیوں پر ضبط کیا گیا اور جس پر کسی ملک کا پرچم نہیں تھا۔ اس جہاز کو کسی ملک کا پرچم نہ لہرانے کے جرم میں ضبط کیا گیا اور اسے ان جہازوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو غیر شفاف یا خفیہ طریقے سے تیل کی نقل و حمل کر رہے ہیں۔

امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس تیل بردار کا براہِ راست تعلق بھی وینزویلا سے ہے یا نہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تیل بردار جہاز کے خلاف کارروائی کی جائے گی چاہے وہ دنیا کے کسی بھی سمندر میں ہو۔ خیال رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو وینزویلا پر حملہ کرکے صدر مادورو کو اہلیہ سمیت حراست میں لیا اور نیویارک منتقل کردیا ہے جس کے بعد تیل کی پابندیوں اور سمندر میں بحری ناکہ بندی کو سخت کیا ہوا ہے