مفت بجلی کا استحقاق اور عوام پر بڑھتا بوجھ
اداریہ — 30 نومبر 2025
پاکستان میں جہاں عام صارفین مہنگی ترین بجلی بلوں تلے دبے ہوئے ہیں، وہاں بجلی کے محکموں کے ملازمین کو ماہانہ تین سو سے تیرہ سو یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنا ایک نہایت سنگین عدمِ مساوات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ حقیقت کہ ایک جانب عوام اپنے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہیں اور دوسری طرف سرکاری محکموں کے لاکھوں یونٹس مفت فراہم کیے جا رہے ہیں، موجودہ معاشی حالات میں کسی طور قابلِ جواز نہیں۔
سینیٹ کو دی گئی حالیہ بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ ملک بھر میں ڈسکوز، جنیکوز، این ٹی ڈی سی، پی آئی ٹی سی اور واپڈا کے ملازمین کو ماہانہ 300 سے 1300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ مفت یونٹس آئیسکو میں دیے جا رہے ہیں جو 2 لاکھ 56 ہزار 500 یونٹس ماہانہ بنتے ہیں۔ مجموعی طور پر 13 کمپنیوں کے ملازمین ماہانہ 3 لاکھ 18 ہزار 445 یونٹ مفت استعمال کر رہے ہیں۔
گریڈ 1 سے 4 تک ملازمین کو 300 یونٹ، گریڈ 5 سے 16 تک 600 یونٹ، گریڈ 17 کو 650، گریڈ 18 کو 700، گریڈ 19 کو 1000، گریڈ 20 کو 1100 جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے افسروں کو 1300 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ سہولت ایک ایسی پالیسی کی نشان دہی کرتی ہے جو دہائیوں پرانی ہے مگر موجودہ دور میں نہ معاشی طور پر پائیدار ہے اور نہ اخلاقی طور پر قابلِ قبول۔
اگر ایک طرف حکومت صارفین پر مسلسل ٹیرف بڑھا رہی ہے، فیول ایڈجسٹمنٹ لگا رہی ہے اور بجلی کی قیمتوں کو خطے میں بلند ترین سطح تک لے گئی ہے، تو دوسری جانب لاکھوں یونٹ ماہانہ مفت بانٹنے کی پالیسی ایک شدید تضاد ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری محکموں کے خسارے بڑھتے ہیں بلکہ عام شہری پر بھی اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس مراعتی نظام کا ازسرِنو جائزہ لے۔ ملازمین پہلے ہی تنخواہیں اور الاؤنسز لیتے ہیں؛ لہٰذا مفت بجلی جیسی غیرضروری سہولت ختم کی جائے یا کم از کم اسے مارکیٹ ریٹ کے مطابق محدود کیا جائے۔ دنیا بھر میں ایسے فوائد صرف خاص حالات میں دیے جاتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں یہ ایک مستقل اور بھاری بوجھ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
توانائی بحران اور معاشی کمزوری کے اس دور میں پاکستان مزید ایسے غیر منصفانہ بوجھ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو ریلیف دینے اور توانائی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں، اور ان کا آغاز مفت بجلی کے اس خصوصی امتیاز کے خاتمے سے ہونا چاہیے

