سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی اپنے خلاف چلنے والی خبر کی سختی سے تردید، وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے خبر کو لطیفہ قرار دے دیا

اسلام آباد (نوائے احمد پور شرقیہ رپورٹ/ سوموار، 15 نومبر 2021ء) سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنے خلاف چلنے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے متعلق رپورٹ ہونے والی خبر حقائق کے منافی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے "اے آر وائی نیوز” کے نمائندے حسن ایوب سے خصوصی گفتگو میں انصار عباسی کی خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے میرے متعلق رپورٹ کی گئی خبر حقائق کے منافی ہے، رانا شمیم کے سفید جھوٹ پر کیا جواب دوں۔
سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رانا محمد شمیم بطور چیف جج عہدے میں توسیع مانگ رہے تھے۔ میں نے توسیع منظور نہیں کی۔ ایک بار رانا شمیم نے مجھ سے ایکسٹینشن نہ دینے کا شکوہ بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں کہ اپنے خلاف چلنے والی خبروں کی وضاحتیں پیش کرتا پھروں۔
دوسری جانب اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ انصار عباسی صاحب کی ایک حیرت انگیز اسٹوری نظر سے گزری جس میں ایک گلگت کے جج صاحب فرماتے ہیں کہ جب وہ ثاقب نثار صاحب کے پاس چائے پینے بیٹھے تو جج صاحب نے فون پر ہائی کورٹ کے جج کو کہا کہ نواز شریف کی ضمانت الیکشنوں سے پہلے نہیں لینی۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کیسے کیسے لطیفے اس ملک میں نواز شریف کو مظلوم ثابت کرانے کی مہم چلا رہے ہیں، اندازہ لگائیں کہ آپ کسی جج کے پاس چائے پینے جائیں وہ آگے سے فون ملا کر بیٹھا ہے کہ آپ کے سامنے ہی ایسی ہدایات جاری کرے کہ کسی ملزم کی ضمانت لینی ہے یا نہیں لینی۔ ملزم بھی کوئی عام آدمی نہیں ملک کا وزیر اعظم ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بے وقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں نہ گھڑیں۔ یہ بتا دیں نواز شریف کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے پیسے کہاں سےآئے، بعد میں اپارٹمنٹ مریم نواز کی ملکیت میں دے دئیے گئے ، مریم نےکہا میری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں، اب مریم کی اربوں کی جائیداد سامنے آ چکی ہے۔ اس کا جواب دیں۔