بہت سے لوگوں کیلئے دو وقت کی روٹی مشکل:معاہدے کی دوبارہ کوشش کرنی چاہیے:ایرانی صدر
پزشکیان نے ‘‘نہ جنگ، نہ امن’’ کی صورت حال ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو بھی اس کیفیت سے نکلنا ہوگا، تاہم انہوں نے اس کے لیے کوئی طریقہ نہیں بتایا
صنعا،ریاض،عدن(نیوز ایجنسیاں) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے ساتھ عبوری معاہدے کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ طے کرنے کے لیے دوبارہ کوشش کی جانی چاہیے ۔ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر ہفتے کو نشر ہونے والے بیان میں پزشکیان نے کہا، ہم مذاکرات کر رہے تھے ، لیکن بزدل امریکیوں نے سب کچھ بگاڑ دیا۔ میرا اب بھی خیال ہے کہ ہمیں آگے بڑھ کر یہ معاہدہ طے کر لینا چاہیے ۔ اے ایف پی کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات بڑھنے کے باعث بہت سے ایرانیوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔پزشکیان نے ‘‘نہ جنگ، نہ امن’’ کی صورت حال ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو بھی اس کیفیت سے نکلنا ہوگا، تاہم انہوں نے اس کے لیے کوئی طریقہ نہیں بتایا۔ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے ہفتے کو کہا کہ مسلح افواج کسی بھی نئے حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا، دشمن نے محدود کارروائی بھی کی تو ایران کا جواب کئی گنا زیادہ شدید ہوگا۔ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف علی عبداللہی نے کہا، ہم کسی بھی صورت اور کسی بھی وقت امریکی جنگی جہازوں کو خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا، امریکی صدر کو ایرانی مسلح افواج کے خلیج فارس میں داخل ہونے کا خواب دیکھتے رہنا چاہیے ۔ وہ یہ خواب اپنی قبر میں لے کر جائیں گے ۔
ادھر سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے ہفتے کو مکہ مکرمہ سمیت ملک کے مغربی حصے کے چار صوبوں میں ممکنہ خطرے سے متعلق ہنگامی انتباہ جاری کیا، تاہم خطرے کی نوعیت نہیں بتائی۔ چند منٹ بعد تمام انتباہات واپس لے لیے گئے ۔سعودی فوجی اتحاد نے ہفتے کو دعویٰ کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض ، طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے تین میزائل فضا میں تباہ کر دئیے گئے ۔ مشرقی صوبے میں ایک ڈرون بھی ناکارہ کیا گیا۔ادھر یمنی دار الحکومت صنعا اورساحلی شہر حدیدہ پر سعودی اتحادی فوج کی بمباری میں16افراد جاں بحق اورکئی زخمی زخمی ہو گئے ۔ صنعا پرحملوں میں 11 افراد مارے گئے جبکہ حدیدہ میں ایک گھر پر حملے میں خاندان کے سربراہ، ان کے دو بچوں اور دو بیویوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے ۔یہ کارروائیاں سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے ریاض، طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے تین حوثی میزائل تباہ کرنے کے اعلان کے بعد ہوئیں۔
دوسری جانب حوثی باغیوں نے ہفتے کو دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں تین ہوائی اڈے ، تیل کی دو تنصیبات، ایک پائپ لائن اور ایک فضائی اڈاشامل ہیں۔حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ گروپ نے سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دو مرحلوں میں نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ مشرقی شہر دمام اور جنوبی شہر نجران کے ہوائی اڈوں کو بھی ہدف بنایا گیا۔ حوثیوں کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔حوثی فوجی ترجمان نے کہا کہ ان کی فورسز نے عدن میں النصر کیمپ اور بحری اڈے پر موجود سعودی فوجی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔

