Advertisements

سیلاب اور زرعی نقصانات – جنوبی پنجاب میں فصلوں کی تباہی اور غذائی تحفظ پر اثرات 

Advertisements

اداریہ ——- 26 ستمبر 2025‎


جنوبی پنجاب کے وسیع علاقے حالیہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت نے جہاں لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے، وہیں سب سے زیادہ نقصان کاشتکار طبقے اور زرعی معیشت کو ہوا ہے۔ کپاس، چاول، گنا، سبزیاں اور چارہ جات جیسی اہم فصلیں زیرِ آب آنے کے باعث تباہ ہو چکی ہیں۔ یہ نقصان نہ صرف کسانوں کی کمر توڑ دے گا بلکہ آنے والے مہینوں میں ملک کی غذائی ضروریات اور زرعی برآمدات پر بھی گہرے منفی اثرات ڈالے گا۔

Advertisements

پاکستان کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک زراعت پر ہے، اور جنوبی پنجاب کو اس کا ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ فصلوں کی تباہی کے نتیجے میں نہ صرف زرعی آمدنی میں کمی آئے گی بلکہ دیہی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ دوسری جانب، اجناس کی قلت کے باعث غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو براہِ راست شہری اور دیہی دونوں طبقوں کو متاثر کرے گا۔ اس صورتحال میں غذائی تحفظ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے۔

حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگائے اور انہیں معاوضے کی فراہمی یقینی بنائے۔ صرف امدادی پیکجز کافی نہیں ہوں گے، بلکہ زرعی بحالی کے لیے بیج، کھاد اور زرعی قرضوں میں سہولتیں فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اسی طرح پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے اور سیلابی صورتحال سے بچاؤ کے لیے ڈیموں، بیراجوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جب تک زراعت کو محفوظ نہیں بنایا جائے گا، ملک میں غذائی تحفظ قائم نہیں ہو سکتا۔ سیلابی نقصانات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور غیر محفوظ زرعی ڈھانچہ ہماری معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اب وقت ہے کہ حکومت، پالیسی ساز ادارے اور بین الاقوامی شراکت دار مل کر ایک پائیدار زرعی حکمتِ عملی وضع کریں تاکہ آئندہ ایسی آفات کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور کسانوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔