Advertisements

عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں, پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات کر رہی ہیں

Slain Journalist Arshad Sharif'
Advertisements

وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹا دیا ,تحقیقات کی نگرانی یا اسے مستقل زیر التوا رکھنا ملزم کے حقوق اور شفافیت کے منافی ہے,تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا۔  ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامرفاروق نے تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان میوچل لیگل اسسٹنس پر دستخط ہوچکا ہے ، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

Advertisements

 تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سوموٹو کیس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔  وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کے قتل پرصحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات کر رہی ہیں،عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔  تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔  وفاقی آئینی عدالت نے بین الاقوامی فورمز پر جانے کا معاملہ حکومت کی صوابدید اور خارجہ پالیسی پر چھوڑ دیا۔  وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی اب تک کی کارروائی پر کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا، ملزمان کی گرفتاری اورپاکستان میں ٹرائل کیلئے  بلیک وارنٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔  وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ  تحقیقات کی رفتار کینیا کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی اور خودمختار ریاستوں کے قوانین کے تابع ہے۔  خیال رہے کہ 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر قتل کیا تھا