وفاق اور پنجاب کا بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے عارف عزیز شیخ
عام آدمی، مزدور، کسان، سرکاری ملازمین اور چھوٹے تاجروں کے لیے بجٹ میں کوئی خاطر خواہ ریلیف موجود نہیں۔ سابق رکن قومی اسمبلی
چنی گوٹھ (نامہ نگار) سابق رکن قومی اسمبلی عارف عزیز شیخ نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب کا بجٹ محض الفاظ کا گورکھ دھندہ ثابت ہوا ہے، جس میں عام آدمی، مزدور، کسان، سرکاری ملازمین اور چھوٹے تاجروں کے لیے کوئی خاطر خواہ ریلیف موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو بڑے بڑے دعوؤں اور اعداد و شمار سے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
عارف عزیز شیخ نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرتی، مگر بجٹ میں ایسی کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن زرعی شعبے کو درپیش مسائل کے حل، کھاد، بیج، زرعی ادویات اور دیگر زرعی اخراجات میں کمی کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ اسی طرح نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور کاروبار کے فروغ کے حوالے سے بھی بجٹ عوام کی توقعات پر پورا اترتا دکھائی نہیں دیتا۔
سابق ایم این اے نے مزید کہا کہ حکومت کو صرف اعلانات اور دعوؤں کے بجائے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن کے ثمرات براہِ راست عام شہری تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاشی پالیسیوں کو عوام دوست بنایا جائے، ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کی جائے، مہنگائی پر قابو پایا جائے اور ترقیاتی منصوبوں میں پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب بجٹ کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں اور عام آدمی اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی محسوس کرے۔ عوام کو صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ عملی ریلیف کی ضرورت ہے۔

