گندم پالیسیوں کے تجربات، کسان متاثر ہو رہا ہے: حسن عسکری شیخ
پنجاب حکومت گزشتہ تین برس سے گندم کی خریداری کے حوالے سے مختلف تجربات کر رہی ہے گندم کی خریداری اور قیمت کے حوالے سے مستقل اور قابلِ اعتماد پالیسی بنانا ہوگی
حکومت کی پانچ ہزار روپے فی ایکڑ امداد بھی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے مقابلے میں محدود ہے پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت، تجارت و سرمایہ کاری
چنی گوٹھ (نامہ نگار) رکن صوبائی اسمبلی پی پی 248 و پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت، تجارت و سرمایہ کاری حسن عسکری شیخ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت گزشتہ تین برس سے گندم کی خریداری کے حوالے سے مختلف تجربات کر رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر کسانوں پر پڑ رہا ہے۔ حکومت کو گندم کی خریداری اور قیمت کے حوالے سے مستقل اور قابلِ اعتماد پالیسی بنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ 2024ء میں 3900 روپے فی من امدادی قیمت مقرر کی گئی، مگر بڑے پیمانے پر سرکاری خریداری نہ ہونے سے کسانوں کو کم قیمت پر گندم فروخت کرنا پڑی۔ 2025ء میں امدادی قیمت ختم ہوئی اور بعض منڈیوں میں گندم 2200 سے 2390 روپے فی من تک فروخت ہوئی، جبکہ 2026ء میں نجی کمپنیوں کے ذریعے 3500 روپے فی من پر خریداری کا نظام متعارف کرایا گیا۔حسن عسکری شیخ نے کہا کہ کھاد، ڈیزل، بجلی، بیج، آبپاشی اور مزدوری کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ گندم کی مناسب قیمت نہ ملنے سے کسان معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ حکومت کی پانچ ہزار روپے فی ایکڑ امداد بھی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے مقابلے میں محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان خیرات نہیں بلکہ اپنی محنت اور سرمایہ کا مناسب معاوضہ چاہتا ہے۔ حکومت گندم پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے چھوٹے کسان کے معاشی تحفظ کو یقینی بنائے اور مستقل، شفاف اور منصفانہ زرعی پالیسی تشکیل دے۔

