ماحولیاتی آلودگی اور تمباکو نوشی سے دمہ اور تپ دق کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے ڈاکٹر ظفراللہ سیال
ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے آ گہی مہم حکومتی سطح پر چلنی چاہیے یسابق ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ
احمد پور شرقیہ : ماحولیاتی آلودگی اور تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کی وجہ سے دمہ اور تپ دق کے مریضوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے یہ بات سابق ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ ڈاکٹر ظفراللہ سیال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ دمہ ایسا مرض ہے کہ جس کی جتنی جلد تشخیص ہو جائے اس پراتنی جلدی قابو پایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا دمہ کی بیماری کی وجہ سے 90 فیصد مریض نارمل زندگی نہیں گزار پاتے انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے اس مرض کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے بسوں ٹرینوں اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی سے دوسرے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں
انہوں نے کہا کہ دمہ کے مرض میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی بھی ہے ہر بڑے اور چھوٹے شہر میں فضائی الودگی اپنی حدود کراس کر چکی ہے انہوں نے کہا یہ ایک ایسا مرض ہے جو موروثی اور ماحولیاتی آلودگی سے تعلق رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ بیماری نمونیا سانس اور گلے کے انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کم ہونے سے بچوں میں اس مرض کی شرح بڑھ رہی ہے انہوں نے کہا ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے آ گہی مہم حکومتی سطح پر چلنی چاہیے

