Advertisements

مذہبی منافرت کا خاتمہ: علما، ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری

Advertisements

اداریہ —- 10 جنوری 2026

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا علما، آئمہ کرام اور امام صاحبان میں اعزازیہ کارڈز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب محض ایک انتظامی اعلان نہیں بلکہ ایک واضح سماجی و فکری پیغام بھی ہے۔ مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ تقسیم اور تشدد کے خلاف جو مؤقف انہوں نے اختیار کیا، وہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ امن و اتحاد صرف ریاستی اقدامات سے نہیں بلکہ منبر و محراب کی رہنمائی سے ہی پائیدار ہو سکتے ہیں۔

Advertisements

پنجاب بھر میں تقریباً 80 ہزار مساجد اور ان میں خدمات انجام دینے والے آئمہ کرام کی معاشی مشکلات ایک عرصے سے نظرانداز ہوتی رہی ہیں۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ ہزاروں آئمہ کو محض پانچ ہزار روپے ماہانہ ملتے رہے، جو موجودہ معاشی حالات میں نہایت ناکافی ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے 25 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ کا اعلان ایک مثبت قدم ہے، جو نہ صرف آئمہ کرام کے معاشی تحفظ کی طرف پیش رفت ہے بلکہ مذہبی قیادت کے احترام اور عملی تعاون کی علامت بھی ہے۔ شفاف اور براہِ راست ادائیگی کے نظام کی تشکیل اس اقدام کو مزید قابلِ اعتماد بناتی ہے۔

وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ مذہبی منافرت اور فتنہ انگیزی صرف حکومت کا مسئلہ نہیں، نہایت اہم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مذہب کو سیاسی یا تشدد آمیز مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج پورے معاشرے نے بھگتے۔ جلاؤ گھیراؤ، سڑکوں کی بندش، عوامی و سرکاری املاک کو نقصان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے—یہ سب وہ اعمال ہیں جنہیں کسی صورت مذہب سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ قرآن و حدیث فساد، ظلم اور بے گناہوں کے قتل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

علما اور آئمہ کرام معاشرے میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ان کی آواز گلی محلوں، شہروں اور دیہات تک پہنچتی ہے۔ اگر یہی آواز اتحاد، برداشت، قانون کی پاسداری اور انسانی جان کے احترام کا پیغام دے تو شدت پسندی کی جڑیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ اسی طرح ریاست کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ بلاامتیاز مظلوم کو انصاف فراہم کرے اور ظالم کو قانون کے کٹہرے میں لائے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے، نسل یا گروہ سے ہو۔

ٹریفک قوانین، شہری نظم و ضبط اور عوامی تحفظ کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا مؤقف بھی اسی ریاستی ذمہ داری کے تسلسل کا حصہ ہے۔ قانون کی پابندی کسی فرد یا حکومت کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے۔ یہ شعور پیدا کرنا بھی علما اور سماجی رہنماؤں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مختصراً، علما کرام کو معاشی سہارا فراہم کرنا، ریاست اور مذہبی قیادت کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا اور مذہبی منافرت کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت، علما اور عوام ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں تو پاکستان میں امن، اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔