Advertisements

تعلیم اور ہنرمندی: نوجوانوں کے روشن مستقبل کی کنجی

Advertisements

اداریہ- 21 ستمبر 2025

قوموں کی ترقی اور معیشت کی مضبوطی کا انحصار ان کی افرادی قوت پر ہوتا ہے۔ وہ معاشرے جو اپنی نوجوان نسل کو تعلیم اور ہنر دونوں سے آراستہ کرتے ہیں، ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرتے ہیں اور دنیا کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ آج کا دور محض ڈگریوں کا نہیں بلکہ عملی قابلیت اور ہنر کا دور ہے۔

Advertisements

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 64 فیصد ہے، جو کہ افغانستان کے بعد جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ شرح ہمارے لیے ایک عظیم موقع بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ اگر یہ نوجوان تعلیم اور روزگار سے محروم رہے تو یہی طاقت معاشرتی مسائل میں بدل سکتی ہے، لیکن اگر انہیں معیاری تعلیم اور عملی تربیت فراہم کی جائے تو یہی نوجوان پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے اب بھی زیادہ تر روایتی نصاب اور رٹہ سسٹم تک محدود ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا دینے اور ہنرمندی سکھانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ نتیجتاً ہزاروں ڈگری یافتہ نوجوان ہر سال بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں اور ملکی صنعت و مارکیٹ کی ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جرمنی، جاپان، چین اور جنوبی کوریا نے نوجوانوں کو فنی تعلیم و تربیت فراہم کر کے اپنی معیشت کو مستحکم کیا۔ ان ممالک میں اسکول کی سطح پر ہی ہنر سکھانے کو لازمی جزو بنا دیا گیا ہے۔ یہی ماڈل پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہونا چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قومی تعلیمی پالیسی میں بنیادی اصلاحات کرے۔ نصاب میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ ہر طالب علم کو کم از کم ایک عملی ہنر لازمی طور پر سیکھنے کا موقع ملے۔ تعلیمی اداروں میں جدید لیبارٹریاں اور ورکشاپس قائم کی جائیں، جبکہ ٹیکنیکل و ووکیشنل اداروں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جائے۔

نجی شعبہ بھی اس سفر میں حکومت کا شریک کار بن سکتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون سے تربیتی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ ملکی صنعت کو بھی ہنرمند افرادی قوت حاصل ہو گی۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ تعلیم اور ہنر کا امتزاج ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ صرف تعلیم نوجوانوں کو بے روزگار ڈگری ہولڈر بناتی ہے اور صرف ہنر بغیر تعلیم کے انہیں عالمی مقابلے میں کمزور کر دیتا ہے۔

پاکستان کو اپنی 64 فیصد نوجوان آبادی کو بوجھ بننے سے بچا کر طاقت میں بدلنا ہوگا۔ اگر آج ہم نے نوجوان نسل کو معیاری تعلیم اور جدید ہنر فراہم کر دیا تو کل یہ نسل پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کی صف میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔