اسلام آبادمیں او آئی سی کے وزرائے کا خارجہ کا اجلاس
اداریہ: بروز جمعرات 23 دسمبر 2021
اسلام آباد میں اوآئی سی وزرائے خارجہ کا افغانستان کے معاملے پر اجلاس منعقد ہوا جس میں بیس ممالک کے وزرائے خارجہ اور دس نائب وزرائے خارجہ کی شرکت یقینا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان افغانستان کے لیے ٹرسٹ فنڈ کے قیام میں کامیاب ہو گیا جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے او آئی سی وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں افغانستان کے مفلوک الحال عوام کے لیے ایک ارب ریال دینے کا اعلان کیا۔
اوآئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں افغانستان کے بینکنگ سسٹم کی قرارداد بھی اتفاق رائے سے منظور کی گئی جو بہت بڑی کامیابی ہے افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے زوال اور طالبان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد امریکہ نے افغانستان حکومت کے پانچ ارب ڈالر منجمند کر دیئے ہیں پاکستان کا موقف درست ہے کہ مسئلہ طالبان کا نہیں تین کروڑ 80لاکھ افغانوں کا ہے جو بھوک اور قحط کا سامنا کر رہے ہیں افغانستان کو ادویات اور خوراک کی اشد ضرورت ہے طالبان حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں اگر یہ صورتحال بر قراررہی تو خطر ناک انسانی بحران افغانستان میں جنم لے سکتا ہے
وزیر اعظم عمران خان ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں جہنوں نے برادر اسلامی ملک افغانستان کے معاملہ پر او آئی سی کا اجلاس بلایا جس میں افغا نستان کے لیے ٹرسٹ فنڈ قائم کیا گیا اُمید کی جانی چاہئے کہ سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے پریشر کے نتیجہ میں حکومت امریکہ افغانستان کے منجمد پانچ ارب ڈالر ز کو طالبان حکومت کے حوالے کر دے گی اور حکومت افغانستان کو تسیلم کرنے کے علاوہ اس سے ورکنگ ریلشین شپ بھی قا ئم کرے گی۔