خبیر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات، حکمران جماعت پی ٹی آئی کو شکست
اداریہ: بروز بدھ 22 دسمبر 2021
صوبہ خیبر پختو نخواہ کے پہلے مر حلے کے بلدیاتی انتخابات میں نو سال سے حکمران جماعت تحریک انصاف کو شکست کا سا منا کر نا پڑا خبیر پختونخواہ کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ انتخابی نتا ئج کے مطا بق جمعیت علماء اسلام نے تحصیل چیئرمین کی 18 نشستوں پر میدان ما ر لیا اور سر فہر ست رہی جبکہ حکمران جماعت پی ٹی آئی 14 تحصیل چیئر مین کی نشستیں حاصل کر سکی عوامی نیشنل پارٹی اورآزاد اُمیدواروں نے نو،نو نشستیں حاصل کیں۔ صوبہ خبیر پختونخوا کے دار لحکومت پشاور کے مئیر کا انتخابی معرکہ میں مو لانا فضل الرحمن کے اُمیدوار نے جیت لیا۔
پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی کا سندھ مسلم لیگ ن کا وسطی پنجاب اور صوبہ خبیرپختونخواہ پاکستان تحریک انصاف کا پاوربیس سمجھا جا تا رہا ہے۔ ضیا الحق اور پرویز مشرف جیسے آمر بھی سندھ میں پیپلز پارٹی کی گرفت کو کمزور نہیں کر سکے جبکہ مسلم لیگ ن کے لیے جیسے بھی حالات رہے وہ آج بھی سینٹرل پنجاب کی سب سے بڑی جماعت ہے ان دونوں جماعتوں کے برعکس پا کستان تحریک انصاف جس نے2018 کے عام انتخابات میں صوبہ خبیر پختو نخواہ میں دوتہائی اکثریت حاصل کی تھی نو سال کے طویل اقتدار کے بعد بلدیاتی انتخابات میں شکست کھا گئی یہ صورتحال پی ٹی آئی قیادت کے لیے بڑا چیلنج ہے
پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزراء فواد چوہدری اور شبلی فراز کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں گروپ بندی اور ایک دوسرے کے خلاف بلدیاتی الیکشن میں بر سر پیکار ہو نے کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا جبکہ صوبہ خبیر پختو نخواہ کے وزیر شوکت یوسف زئی نے اس کا ذمہ دار مہنگائی کو قرار دیا ہے ادھر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ ووٹ ملے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کے حامی اورکارکن بھی متعدد اضلاع میں ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ اسطرح پی ٹی آئی قیادت کا یہ کہنا کہ پی ٹی آئی کا مقابلہ پی ٹی آئی سے تھاجزوی طور پر درست ہے،
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اپنے پاوربیس صوبہ خبیر پختو نخواہ کے بلدیاتی الیکشن اپنی شکست کی جو بھی توجیح پیش کرے حقیقت یہ ہے کہ اُن کی شکست کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے جس نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔پی ٹی آئی کے رہنماوں کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ ہیلتھ کارڈ تقسیم کر کے آئندہ انتخابات جیت لیں گے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہیلتھ کارڈ بھی تقسیم کیا جا چکا ہے۔پولیس کے نظام کو بھی وہاں پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں بہت بہتر بنایا گیا۔ لیکن اسکے بر عکس پنجاب میں گڈ گور ننس نام کی کوئی چیز دیکھنے کو نہیں ملتی۔
ہم وزیر اعظم عمران خان سے گزارش کریں گے کہ وہ مہنگائی کے خاتمہ کو اپنی اولین تر جیح بنائیں، پی ٹی آئی کے پاس اپنی مدت اقتدار کا کم وپیش ڈیڑھ سال باقی ہے اگر اس دوران مہنگائی پر قابو پا کر عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ انتخابی اکھاڑے میں اُتر سکے گی بصورت دیگر اسے گراؤنڈ پر تشویشناک صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔