Advertisements

فیک نیوز کا مسئلہ، وفاقی حکومت کا قانون سازی کا اعلان

Advertisements

اداریہ: بروز منگل 21 دسمبر 2021

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنماء جسٹس(ر) وجیہہ الدین کی جانب سے جہانگیر ترین کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے گھریلواخراجات کے لیے پچاس لاکھ روپے ماہانہ دینے کے اعلان پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کے منحرف رہنماء جسٹس (ر)وجیہہ الدین کو مسخرے کے لقب سے نوازااور کہا کہ حکومت اُن کے خلاف فوجداری ہتک عزت کا مقد مہ دائر کرے گی وزیر اطلاعات نے ملک کے مشہور صحافی نجم سیٹھی کو بھی اپنی پریس کانفرنس میں ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کی جھوٹی خبر پھیلائی۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ فیک نیوز سے نمٹنے کے لیے حکومت اسٹیک ہولڈر ز کے ساتھ مشاورت کر کے قانون سازی کرے گی اُ نہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم تک کی عزت محفوظ نہیں ہے فوج‘ عدلیہ اور مقننہ کے خلاف جھوٹی خبریں چلائی جاتی ہیں جسکا تدارک انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس(ر) وجیہہ الدین کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف جھوٹی خبر پر پرواگرم کرنے والے ٹی وی چینلز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اس سلسلے میں انہوں نے جہا نگیر ترین سے بھی اظہار تشکر کیا جنہوں نے وزیر اعظم کے گھریلواخراجات کی ادائیگی کی تردیدکی۔
بلا شبہ فیک نیوز ایک بڑا مسئلہ ہے مگر پاکستان کا پرنٹ میڈیا تو ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا آیا ہے جہاں تک ملک کے الیکٹرانک میڈیا کا تعلق ہے اس کے حوالے سے متعدد حلقوں کی جانب سے شکایات سامنے آتی رہتی ہیں لیکن حکومت اس ضمن میں اے پی این ایس‘سی پی این ای‘پی ایف یو جے اورپی بی اے کی مشاورت سے قانون سازی کر سکتی ہے جبکہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے وہ متذکرہ بالا تنظیموں سے مشاورت بھی کر چکی ہے البتہ سوشل میڈیا کے حوالے سے یہ بات درست ہے کہ وہاں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے اور اسے ریگولیٹ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے وزیر اطلاعات نے ٹی وی چینلز پر تو الزا مات لگا دیئے مگر اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ حکمران جماعت کے بعض وزراء اور قائدین بھی فیک نیوزچلانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔اور اس حوالے سے کئی مثالیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔پی ٹی آئی نواز شریف حکومت کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کے خلاف جس قسم کے الزامات لگاتی رہی ہے اس میں سے بعض سنگین الزامات فیک نیوز اور ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔لیکن یہ حقیقت ہے وطن عزیز میں سیاسی جماعتوں کواپوزیشن میں رہتے ہوئے آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی اچھی لگتی ہے لیکن جب وہ برسر اقتدار آتی ہیں تو وہ آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ یہی ہمارے ملک کا المیہ ہے۔

Advertisements