ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کی نئی کتاب ’’مولانا ظفر علی خان کا عہد صحافت‘‘ شائع ہوگئی
ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے مولانا ظفر علی خان پرپی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر 1994 میںپنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ( جرنلزم ) کی ڈگری حاصل کی تھی
لاہور (سٹی رپورٹر) معروف کالم نگار ،شاعر، صحافی، ادیب ،محقق اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کی نئی کتاب ’’ مولانا ظفر علی خان کا عہد صحافت ‘‘ شائع ہوگئی ہے ۔ ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے مولانا ظفر علی خان پرپی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر 1994 میںپنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ( جرنلزم ) کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ وہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہورمیں چیف پبلک ریلیشتر آ فیسر رہے۔ وہ ماہنامہ ’’احوال لاہور ‘‘ کے ایڈیٹر، روشنی کمیونیکیشن ایڈورٹائزنگ لاہور کے ڈائریکٹر اورروزنامہ’’ اومیگا نیوز‘‘ کے گروپ ایڈیٹر بھی رہے ہیں ۔ ان کے کم و بیش پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
جرنلزم کے موضوع پر ان کی کئی نصابی کتب بھی شائع ہوچکی ہیں ۔ان کے کالموں کا مجموعہ ’’لوگ کہتے ہیں‘‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ اب انہوں نے بابائے صحافت، مولانا ظفر علی خان پر 782 صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب لکھ کر ایک تاریخ ساز کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے مولانا ظفر علی خان کی شخصیت کے صحافتی پہلو ئوںاور مدبرانہ قیادت کو مدلل انداز سے اجاگر کیا ہے ۔ یہ ضخیم کتاب اپنے دامن میں حیرتوں کا ایک جہان سمیٹے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے مولانا ظفر علی خان کو ایک صحافی یا شاعر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے راہنما، مفکر اور محب وطن ادیب کے طور پر پیش کیا ہے جنھوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں نہ صرف یہ کہ سیاسی شعور کی بیداری پیدا کی بلکہ مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں صحیح معنوں میں رہنمائی مل سکے ۔ انہوں نے مولانا ظفر علی خان کے اجتماعی کردار کو اصول پسندی، جرأت اظہار اور قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار ایک ایسے راسخ العقیدہ مسلمان کے طور پر پیش کیا ہے جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

