Advertisements

ٹرمپ ایران پر محدود حملے اور بعد ازاں بڑے فوجی آپریشن پر غور کرنے لگے: نیویارک ٹائمز

President Trump Announces: “We Will Run Venezuela’s Affairs Until the Transfer of Power”
Advertisements

اخبار کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کرنے والے ہیں جسے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے  عسکری آپشنز بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک محدود ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں اور اگر اس کے باوجود ایران جوہری پروگرام سے دستبردار نہ ہوا تو آنے والے مہینوں میں ایک بڑا حملہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی اندرونی مشاورت سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے اگر سفارتی کوششیں یا ابتدائی محدود امریکی کارروائی ایران کو ان کے مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکی تو وہ بعد میں ایک وسیع تر فوجی آپریشن پر غور کریں گے جس کا مقصد ایرانی قیادت کو اقتدار سے ہٹانا ہو سکتا ہے۔

Advertisements

اخبار کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کرنے والے ہیں جسے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے عسکری آپشنز بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن ٹرمپ کے مشیروں کے مطابق صدر ابتدائی طور پر آئندہ چند دنوں میں ایک محدود حملے کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد ایرانی قیادت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کرے۔ اخبار کے مطابق اس حوالے سے زیر غور اہداف میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر، جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر یہ اقدامات بھی ایران کو امریکی مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکے تو صدر ٹرمپ رواں سال کے اواخر میں ایک بڑے فوجی حملے کا امکان کھلا رکھیں گے جس کا مقصد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کو کمزور یا ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ تاہم خود امریکی انتظامیہ کے اندر بھی اس بات پر شکوک پائے جاتے ہیں کہ آیا صرف فضائی حملوں کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اخبار کے مطابق پسِ پردہ دونوں فریق ایک متبادل تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کو محدود سطح پر صرف طبی تحقیق اور علاج کے مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ فوجی تصادم سے بچنے کا راستہ نکالا جا سکے تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں میں سے کوئی فریق اس تجویز پر آمادہ ہوگا یا نہیں۔ اس دوران دو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں لڑاکا طیارے، بمبار طیارے اور ری فیولنگ ائیرکرافٹ ایران کے قریب تعینات کیے جا چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے