Advertisements

شہباز شریف کے دورہ روس پر سفارتی و میڈیا فورم کے انعقاد کا فیصلہ

Decision taken to hold a diplomatic and media forum on Shehbaz Sharif’s visit to Russia
Advertisements

سفارتی و میڈیا فورم میں روس اور پاکستان کے ممتاز سفارتکار، ماہرینِ بین الاقوامی امور، دانشور اور سینئر صحافی شرکت کریں گے۔

ماسکو:  وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شہباز شریف کے 3 تا 5 مارچ 2026 کے سرکاری دورہ ماسکو کے موقع پر ” میڈیا فورم ماسکو، اسلام آباد“ کے عنوان سے ایک اہم اور جامع تقریب کا انعقاد کیا جائے گا-‘ سفارتی  و میڈیا فورم میں روس اور پاکستان کے ممتاز سفارتکار، ماہرینِ بین الاقوامی امور، دانشور اور سینئر صحافی شرکت کریں گے۔  یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی سیاسی و سفارتی نظام تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے اور نئی عالمی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں۔

Advertisements

 مبصرین کے مطابق روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط اس بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔  ماسکو میں منعقدہ اجلاس میں روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، روسی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کے ممتاز محقق ویاچیسلاو بیلوکرینتسکی اور سینئر ریسرچ فیلو نتالیہ زامارایوا شریک ہوں گے۔  معروف روسی اخبار کے مبصر سرگئی ستروکان، بین الاقوامی تعلقات کی ماہر روکسولانا ژیگون، ٹی وی چینل آر ٹی انٹرنیشنل کے سینئر پروڈیوسر دمتری لیونتییف، میڈیا گروپ “روسیا سیوودنیا” کے نمائندہ دیمتری سائیمز اور آن لائن پروڈکٹس کے سربراہ انتون چیباروف بھی شرکت کریں گے۔

 اسلام آباد میں منعقد ہونے والی نشست میں سینیٹر اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید، پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خورِیف، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ثروت رؤف شریک ہوں گی۔  اس نشست میں افتخار شیرازی، وزارتِ دفاع پاکستان کے مشیر سلطان ماریا، ایشیا ون کے نمائندہ انس ملک، ایکسپریس نیوز کے بیورو چیف امیر الیاس رانا اور آج نیوز کے سینئر صحافی و تجزیہ کار شوکت پراچہ بھی شریک ہوں گے۔  فورم کے دوران روس اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔  اقتصادی تعاون، توانائی، دفاعی روابط، میڈیا شراکت داری اور عالمی سیاسی و اطلاعاتی نظام میں روس-پاکستان اشتراک کے کردار پر خصوصی نشستیں متوقع ہیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط، دفاعی تعاون، ماہرین کی سطح پر مکالمہ اور میڈیا تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس فورم کا مقصد ان روابط کو مزید مستحکم اور منظم بنانا ہے۔  منتظمین کے مطابق تقریب میں شرکت صرف پیشگی ایکریڈیٹیشن کے ذریعے ممکن ہوگی۔ صحافیوں کو پاسپورٹ اور درست ادارتی شناختی کارڈ پیش کرنا ہوگا۔  ملٹی میڈیا پریس سینٹر “روسیا سیوودنیا” کو بغیر وجہ بتائے ایکریڈیٹیشن مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔  سیاسی مبصرین کے مطابق یہ میڈیا فورم وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ماسکو کے تناظر میں نہایت اہم پیش رفت ہے۔  توقع کی جا رہی ہے کہ اس مکالمے کے ذریعے نہ صرف سفارتی تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ اطلاعاتی اور فکری سطح پر بھی روس اور پاکستان کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔  روس اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے روابط کو خطے میں نئی سفارتی صف بندی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔