Advertisements

ڈان کا ورلڈ نیوز ڈے پر اداریہ: مصنوعی ذہانت اور پابندیاں معتبر صحافت کے لیے خطرہ

Dawn's World News Day Editorial: AI and Restrictions Threaten Trusted Journalism
Advertisements

خبر رساں اداروں، حکومتوں اور قارئین سے ذمہ داری بانٹنے کی اپیل

اسلام آباد: روزنامہ ڈان نے پیر کو عالمی یومِ خبر (ورلڈ نیوز ڈے) کے موقع پر خبر رساں اداروں، حکومتوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ معتبر صحافت کے تحفظ کی ذمہ داری مشترکہ طور پر اٹھائیں۔ اخبار نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت، معلومات کی بھرمار، صحافیوں پر پابندیاں اور کمزور ہوتے ادارتی معیار کی وجہ سے تصدیق شدہ خبر کی تیاری اور اس کی پہچان مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

Advertisements

"معتبر صحافت کا انتخاب کریں” کے عنوان سے شائع ہونے والے اداریے میں ڈان نے کہا کہ پروپیگنڈا، جھوٹی خبریں، تبدیل شدہ تصاویر اور اے آئی سے بنایا گیا مواد اب حقیقی خبروں کے ساتھ بے مثال رفتار سے پھیل رہا ہے۔ اداریے کے مطابق اصل مسئلہ اب معلومات تک رسائی کا نہیں، بلکہ یہ جاننے کا ہے کہ کس بات پر یقین کیا جائے۔

ڈان نے واضح کیا کہ عوامی اعتماد کسی خبر رساں ادارے کا خودکار حق نہیں۔ یہ اعتماد روزمرہ محنت سے کمایا جاتا ہے، یعنی دعووں کی جانچ، شواہد کی تصدیق، ایک سے زیادہ ذرائع سے رجوع، خبر اور رائے میں فرق، اور غلطی کی کھلے عام تصحیح کے ذریعے۔

اداریے میں میڈیا کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ رفتار، ہیجان اور حتمی رائے کے اس ماحول میں سنسنی خیز سرخیوں، لاپروا غلطیوں اور خبر و تبصرے کے درمیان دھندلی ہوتی لکیر کو تقویت ملتی ہے۔ ہر ایسی کوتاہی عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے اور سنجیدہ صحافت کو مواد کے وسیع سیلاب سے الگ پہچاننا مشکل بنا دیتی ہے۔

پاکستان کی صورتحال

پاکستان کے تناظر میں ڈان نے کہا کہ جب صحافیوں اور خبر رساں اداروں کو دباؤ، رسائی پر پابندیوں، مواصلاتی رکاوٹوں یا ایسے قانونی اور انتظامی اقدامات کا سامنا ہو جو آزادانہ رپورٹنگ کی راہ میں حائل ہوں، تو خبر کی تصدیق مزید دشوار ہو جاتی ہے۔

اداریے میں ان پابندیوں کو براہِ راست اس بات سے جوڑا گیا کہ عوام یہ کیسے سمجھ پاتے ہیں کہ اقتدار کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ اگر صحافی آزادی سے تحقیق نہ کر سکیں تو شہریوں تک کم معتبر معلومات پہنچتی ہیں، اور بحران یا سیاسی کشیدگی کے دوران مواصلات میں خلل پڑے تو افواہوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔

ڈان کے مطابق صحافت کی آزادی اور معتبر معلومات تک عوامی رسائی ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ درست صحافت کا تقاضا صرف نیوز روم کے معیار سے پورا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا انحصار اس پر بھی ہے کہ رپورٹر ذرائع تک پہنچ سکیں، سرکاری ریکارڈ حاصل کر سکیں، سرکاری دعووں کو پرکھ سکیں اور بغیر خوف و ہراس اپنی تحقیقات شائع کر سکیں۔ کسی بھی مرحلے پر رکاوٹ عوام تک پہنچنے والی معلومات کے معیار کو کمزور کرتی ہے۔

عالمی یومِ خبر کیا ہے؟

ورلڈ نیوز ڈے ہر سال 28 ستمبر کو حقائق پر مبنی صحافت کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ 2026 کا پیغام ہے: حقائق کو جانیں، اہم باتوں کو سمجھیں اور معتبر صحافت کا انتخاب کریں۔ یہ دن "معلومات تک عالمی رسائی کے بین الاقوامی دن” کے ساتھ بھی آتا ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2019 میں باضابطہ طور پر منظور کیا، جبکہ یونیسکو اس دن کو 2015 میں نامزد کر چکا تھا۔