Advertisements

نئے صوبوں کا قیام: اب مزید تاخیر کیوں؟

Advertisements

اداریہ– 4 اگست, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان نے کہ "موجودہ انتظامی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام پر غور ہونا چاہیے”، ایک ایسے قومی مسئلے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جو کئی دہائیوں سے عوامی مطالبہ ہونے کے باوجود سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے بڑے، گنجان آباد اور متنوع ملک میں مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے انتظامی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

Advertisements

جنوبی پنجاب اور سابقہ ریاست بہاولپور کے عوام کے لیے یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ تاریخی اور آئینی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ریاست بہاولپور پاکستان میں شمولیت کے بعد ایک باقاعدہ صوبہ تھی۔ اس کی اپنی صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ، سیکریٹریٹ اور دیگر صوبائی ادارے موجود تھے۔ تاہم 1955ء میں ون یونٹ کے نفاذ کے نتیجے میں اس کی صوبائی حیثیت ختم کر دی گئی۔ جب صدر جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ کیا تو بلوچستان کو باقاعدہ صوبہ بنا دیا گیا، لیکن بہاولپور کو اس کا سابقہ آئینی اور انتظامی تشخص واپس نہ مل سکا۔

اسی احساسِ محرومی کے نتیجے میں 1970ء میں مرحوم شہزادہ مامون الرشید عباسی، مرحوم شہزادہ سعید الرشید عباسی اور مرحوم علامہ رحمت اللہ ارشد کی قیادت میں تحریک بحالیٔ صوبہ بہاولپور شروع ہوئی۔ عوام نے اس مطالبے کی بھرپور تائید کی اور بہاولپور متحدہ محاذ نے عام انتخابات میں بہاولپور ڈویژن کی قومی و صوبائی اسمبلی کی اکثریت حاصل کی۔ یہ ایک واضح عوامی مینڈیٹ تھا، لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اس مطالبے پر عمل درآمد نہیں کیا۔

بعد کے ادوار میں بھی عوامی امنگوں کا اعتراف کیا جاتا رہا، مگر عملی اقدامات نہ ہو سکے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کے دور میں پنجاب اسمبلی نے سابقہ صوبہ بہاولپور کی بحالی اور جنوبی پنجاب کے لیے الگ انتظامی ڈھانچے کے حق میں قرارداد منظور کی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کی، مگر دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے وعدوں اور پارلیمانی قراردادوں کو عملی شکل نہ دے سکیں۔

آج پاکستان کو جن انتظامی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا تقاضا ہے کہ اختیارات کو عوام کے قریب لایا جائے۔ وسیع صوبوں میں دور دراز علاقوں کے عوام اکثر بنیادی سہولتوں، سرکاری خدمات، ترقیاتی منصوبوں اور فیصلہ سازی کے عمل سے محروم رہ جاتے ہیں۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام صرف انتظامی اصلاح نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، متوازن ترقی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور قومی یکجہتی کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ کا مؤقف ہے کہ بہاولپور کی سابقہ آئینی حیثیت، جنوبی پنجاب کے عوام کے مطالبات اور ملک کے دیگر خطوں کی جائز خواہشات کو سیاسی مفادات کی بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس قومی بحث کو دوبارہ زندہ کیا ہے تو حکومت، پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر سنجیدہ، آئینی اور جمہوری پیش رفت کریں۔


پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ عوامی خواہشات کو طویل عرصہ نظرانداز کرنے سے احساسِ محرومی میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بروقت آئینی اصلاحات وفاق کو مضبوط بناتی ہیں۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر قومی مکالمے کا آغاز خوش آئند ہے، لیکن اس کا اصل امتحان عملی پیش رفت ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے کو انتخابی نعروں سے نکال کر پارلیمانی اور عوامی مشاورت کے ذریعے ایک قابلِ عمل قومی ایجنڈے میں تبدیل کیا جائے۔