تعمیر مسجد : فضیلت و اہمیت
مسجد اللہ کا گھر ہے ‘ اور روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب جگہیں مساجد ہیں ۔ اسلام میں مسجد کی اہمیت صرف ایک عبادت گاہ کی نہیں ‘ بلکہ یہ ایک کمیونٹی سینٹر‘ جائے پناہ اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا مرکز ہے ۔ مسجد کی تعمیر کرنا ایک بہترین صدقہ جاریہ اور عظیم سعادت ہے ۔ مسجد کی تعمیر معاشرے کی اصلاح اور اپنی عاقبت سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ وہ سرمایہ کاری ہے جس کا منافع کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ ایک ایسی جگہ بنانا جہاں اللہ کا نام بلند ہو‘ انسان کے لیے دنیا میں سکون اور آخرت میں بلندیِ درجات کا باعث ہے ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسجد تعمیر کرنے والوں کے لیے بہت سی بشارتیں اور فضائل بیان کیے گئے ہیں ۔
۱۔ جنت میں گھر کی بشار ت
مسجد تعمیر کرنے کا سب سے بڑا اجر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے بندے کے لیے جنت میں ایک محل تیار فرماتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: > ’’ جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی ‘ اللہ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ۔ ‘‘ ( صحیح بخاری )
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ چھوٹی سی جگہ بھی وقف کرنا یا اس کی تعمیر میں حصہ لینا‘ آخرت میں ایک عظیم الشان ٹھکانے کا سبب بنتا ہے ۔
۲۔ صدقہ جاریہ
انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے‘ لیکن مسجد کی تعمیر ان چند اعمال میں سے ہے ‘ جس کا ثواب قیامت تک جاری رہتا ہے ۔ جب تک اس مسجد میں نماز پڑھی جاتی رہے گی ‘ قرآن کی تلاوت ہوگی اور ذکرِ الٰہی ہوگا‘ اس کا ثواب تعمیر کرنے والے کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا ۔
۳۔ ایمان کی علامت
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسجد تعمیر کرنے والوں (خواہ وہ مادی تعمیر ہو یا اسے آباد کرنا) کو سچا مومن قرار دیا ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’ اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں ۔ ‘‘ ( سورۃ التوبہ: ۱۸)
۴۔ کائنات کی بہترین جگہ
زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ مقام مساجد ہیں ۔ ایسی جگہ کو بنانے میں اپنا مال یا وقت صرف کرنا خوش نصیبی کی بات ہے ۔ یہ صرف اینٹ اور گارے کا ڈھانچہ نہیں‘ بلکہ ہدایت کا سرچشمہ بنانا ہے ۔
مسجد کی تعمیر کے آداب
مسجد کی تعمیر کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے :
اخلاصِ نیت : تعمیر کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو ۔ دکھاوا یا نام و نمود اجر کو ضائع کر دیتا ہے ۔
حلال مال : اللہ طیب (پاک) ہے اور صرف پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے ۔ مسجد کی تعمیر میں صرف حلال کمائی ہی استعمال کرنی چاہیے ۔
سادگی اور وقار : مسجد میں ضرورت سے زیادہ تزئین و آرائش اور نمائش سے بچنا چاہیے تاکہ نمازیوں کی توجہ عبادت میں رہے ۔
تعمیر میں شرکت : اگر کوئی اکیلا پوری مسجد نہیں بنا سکتا ‘ تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ تعمیر میں ایک اینٹ یا ایک روپیہ ڈالنا بھی اسے اس عظیم اجر کا حصہ دار بنا دیتا ہے ۔
عصرِ حاضر میں مسجد کا کردار
عصرِ حاضر میں مسجد کا کردار محض پانچ وقت کی نماز تک محدود نہیں ہے‘ بلکہ آج کے پیچیدہ دور میں اس کی اہمیت ایک ’’ جامع سماجی مرکز‘‘ (community center) کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے ۔ آج جب مسلم معاشرہ فکری یلغار اور اخلاقی پستی کا شکار ہے تو مسجد کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ کلیدی ہو چکا ہے ۔ عصرِ حاضر میں مسجد کے اہم کرداروں کی تفصیل درج ذیل ہے :
۱۔ فکری اور تعلیمی مرکز (educational hub)
قدیم دور میں مسجدیں ہی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کا کام دیتی تھیں ۔ آج بھی مسجد کو اسکول اور کالج کے طلباء کے لیے ایک ایسی جگہ بننا چاہیے جہاں انہیں دین اور دنیا کے درمیان توازن سکھایا جائے ۔ نوجوانوں کے جدید اور سائنسی سوالات کے جوابات اسلامی تناظر میں دیے جائیں ۔ لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں سے ہر عمر کے لوگ استفادہ کرسکیں ۔
۲۔ اخلاقی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ
آج کا معاشرہ منشیات‘ بے راہ روی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال جیسی برائیوں میں گھرا ہوا ہے۔ مسجد کا منبر ان برائیوں کے خلاف سب سے مضبوط مورچہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ خطباتِ جمعہ کو صرف روایتی قصوں تک محدود رکھنے کے بجائے عصرِ حاضر کے مسائل (جیسے ماحولیات‘ صفائی‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد‘ اور سوشل میڈیا کے آداب) پر مرکوز ہونا چاہیے ۔ اور مسجد کے ذریعے نوجوانوں کی کردار سازی (character building) کی جانی چاہیے ۔
۳۔ سماجی بہبود اور فلاحی کام (social welfare)
مسجد انتظامیہ کو اپنے محلے یا بستی کے غریب اور ضرورت مند لوگوں کا data رکھنا چاہیے ۔ عصرِ حاضر میں مسجد کا یہ کردار بہت اہم ہے کہ وہاں ایک بیت المال قائم ہو جو بیواؤں‘ یتیموں اور بے روزگاروں کی مالی معاونت کرے ۔ ناگہانی آفات یا بیماری کی صورت میں مسجد ایک relief center کے طور پر کام کرے ۔اور مسجد میں ابتدائی طبی امداد (first aid) یا ڈسپنسری کا انتظام ہو جہاں مستحقین کا مفت علاج ہو ۔
۴۔ اتحادِ امت کا مرکز
آج امت ِمسلمہ فرقہ واریت اور گروہ بندیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ مسجد وہ واحد مقام ہے جہاں امیر و غریب اور کالے و گورے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ۔ مسجد کو مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان مکالمے اور رواداری کا مرکز بننا چاہیے ۔ اور علاقائی تنازعات اور خانگی جھگڑوں کو حل کرنے کے لیے مسجد میں ’’ مصالحتی کمیٹی ‘‘ ہونی چاہیے ۔
۵۔ نوجوانوں کی پناہ گاہ
آج کا نوجوانdigital دنیا میں تنہائی کا شکار ہے ۔ اگر مسجد کا ماحول دوستانہ (user-friendly) ہوگا ‘ تو وہ کیفے ٹیریا اور غیر مناسب جگہوں کے بجائے مسجد کی طرف راغب ہوگا۔ نوجوانوں کے لیے تربیتی ورکشاپس اور اسپورٹس کلبوں کا مسجد کے زیرِ نگرانی انعقاد انہیں اسلام سے جوڑے رکھنے میں ممد ومعاون ثابت ہوسکتا ہے ۔
۶۔ خواتین کا کردار
عصرِ حاضر کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ مساجد میں خواتین کے لیے بھی شرعی حدود میں رہتے ہوئے نماز‘ تعلیم اور مشورے کے مناسب انتظامات ہوں ۔ جب تک آدھی آبادی (خواتین) مسجد سے نہیں جڑے گی ‘ نسلوں کی صحیح آبیاری ممکن نہیں ہے ۔
حاصل کلام
عصر حاضر میں مسجد کو صرف ’’ عبادت گاہ ‘‘ ہی نہیں بلکہ ’’ رہنمائی گاہ‘‘ بننا ہوگا۔ اسے ایک ایسی فعال جگہ ہونا چاہیے جو مسلمانوں کے روحانی‘ تعلیمی‘ معاشی اور سماجی مسائل کا حل پیش کر سکے ۔

