چولستان 1700 ٹوبوں میں سے 90 فیصد مکمل طور پر خشک ہو گئے حافظ حسین احمد مدنی, محمد علی احسن , ملک شاہ محمد چنڑ
پانی کی شدید قلت کے باعث چولستان کے ایک بڑے حصے کی آبادی عارضی نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے رہنما پاکستان پیپلزپارٹی
بہاول پور: پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما حافظ حسین احمد مدنی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب محمد علی احسن اور پاکستان پیپلز پارٹی بہاول پور کے ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات ملک شاہ محمد چنڑ نے کہا ہے کہ چولستان کے وسیع صحرائی علاقے میں خشک سالی کے ابتدائی مگر تشویشناک آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق چولستان میں موجود تقریباً 1700 ٹوبوں میں سے 90 فیصد مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں، جبکہ قدرتی چراگاہیں بھی تیزی سے ختم ہونے کے قریب ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔پانی کی شدید قلت کے باعث چولستان کے ایک بڑے حصے کی آبادی عارضی نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔ متاثرہ خاندان سرکاری پانی کی پائپ لائنوں، کنوؤں اور چکوک کے قریب منتقل ہو رہے ہیں تاکہ اپنی روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ علاقے میں پانی کے حصول کے لیے خواتین اور بچوں کو طویل فاصلوں کا سفر کرنا پڑ رہا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ماہِ فروری میں بارشیں نہ ہوئیں تو چولستان میں خشک سالی کی صورتحال شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے انسانی زندگی، مویشیوں اور صحرائی ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان میں پانی کی قلت ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ٹوبوں کا خشک ہونا اور چراگاہوں کا خاتمہ مقامی آبادی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر واٹر سپلائی، موبائل واٹر ٹینکرز اور دیگر متبادل انتظامات کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ حالات بگڑنے سے پہلے قابو میں لائے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی متاثرہ چولستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اس مسئلے کو متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا، تاکہ صحرائی علاقوں کے باسیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چولستان میں ممکنہ خشک سالی سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں اور بارشوں کی کمی کی صورت میں متبادل آبی منصوبوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

