صحافی میاں زاہد اویسی پر وحشیانہ حملہ: آزادیٔ صحافت پر سنگین سوالیہ نشان
اداریہ —— 9 جون 2026
بہاولپور میں روزنامہ خبریں کے کرائم رپورٹر میاں زاہد اویسی پر ہونے والا وحشیانہ حملہ نہ صرف ایک فرد پر تشدد کا واقعہ ہے بلکہ یہ پورے صحافتی طبقے، آزادیٔ صحافت اور عوام کے حقِ معلومات پر کھلا حملہ ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ ہمارے معاشرے میں صحافی آج بھی غیر محفوظ ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں خطرات کے سائے میں انجام دے رہے ہیں۔
اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جرنلسٹس الائنس نے واضح کیا ہے کہ یہ حملہ کسی ایک صحافی پر نہیں بلکہ آزاد میڈیا کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب تک صحافیوں کو مؤثر تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک آزادیٔ اظہار محض ایک دعویٰ ہی رہے گی۔
جرنلسٹس الائنس نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیں اور ملزمان کی گرفتاری اور قرار واقعی سزا کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ واقعے کی غیر جانبدار، شفاف اور تیز رفتار تحقیقات کو یقینی بنائیں اور پولیس کارکردگی کو مؤثر بناتے ہوئے ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ امر بھی قابلِ تشویش ہے کہ واقعہ دن دیہاڑے پیش آیا اور مسلح افراد نے ایک صحافی کو نشانہ بنایا، جو قانون کی عملداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر صحافی محفوظ نہیں تو عام شہریوں کے تحفظ کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
ادارہ روزنامہ نواۓ احمدپورشرقیہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتی ہے، اور اس آنکھ اور کان کو زخمی کرنا دراصل معاشرے کو اندھا اور بہرا بنانے کے مترادف ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
- حملے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے
- شفاف اور آزادانہ تفتیش کو یقینی بنایا جائے
- صحافیوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں
- اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے
جرنلسٹس الائنس اور صحافتی برادری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آزادیٔ صحافت، حقِ معلومات اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

