تحریکِ بحالیِ صوبہ بہاولپور کا تیسرا مرحلہ ایک ہی مقصد، تین نسلوں کی پیہم جدوجہد
بہاولپور کا مقدمہ محض ایک نئے صوبے کی تشکیل کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی اور آئینی نقشے پر 1951 کے ایک تاریخی اور آئینی صوبے کی بحالی کا انتہائی جائز اور سلگتا ہوا حق ہے۔ روزنامہ نوائے احمد پور شرقیہ کے صحافتی اور عوامی حلقوں میں اس تحریک کو ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ خطے کی بقا اور شناخت کی جنگ ہے۔
آئینی بنیادیں اور تاریخی سنگِ میل
سنہ 1951 کا آئینی صوبہ: بہاولپور کا بطور کامل صوبہ وجود قائم تھا اور 1952 میں یہاں ایک منتخب عوامی اسمبلی بھی کام کر رہی تھی جس نے خطے کی ترقی و ترویج میں بے مثال کردار ادا کیا۔ مگر ون یونٹ کے نفاذ اور بعد ازاں کی سیاسی تبدیلیوں نے اس آئینی حیثیت کو پسِ پشت ڈال دیا۔
1970
کا پہلا مرحلہ: پرنس مامون الرشید عباسی کی ولولہ انگیز قیادت میں اس تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا جو قربانیوں، گرفتاریوں اور بے مثال استقامت سے عبارت ہے۔ یہ اس جدوجہد کی پہلی نسل کی قربانیوں کا دور تھا۔
2011
کی سینیٹ سفارشات: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفراننے تاریخی صادق گڑھ پیلس کا دورہ کیا اور اس وقت کے امیرِ بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی سے ملاقات کے بعد صوبے کی بحالی کی متفقہ اور تاریخی سفارشات پیش کیں۔
9 مئی 2012 کی متفقہ قرارداد: پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر صوبہ بہاولپور کی بحالی کی قرارداد منظور کی، جو کہ اس تحریک کے حق میں ایک بہت بڑا سیاسی اور قانونی اعتراف تھا۔
سنہ 2026 کا موجودہ دور: کراؤن پرنس بہاول عباس خان عباسی کی قیادت میں تحریک کا تیسرا فیصلہ کن مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ اب ‘بہاولپور صوبہ محاذ’ تمام تحصیلوں میں متحرک ہو کر اس 56 سالہ طویل جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کمر بستہ ہے۔
تین نسلوں کی لازوال قیادت اور تحریک کا تسلسل
. محسنِ پاکستان نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی: جنہیں بانیِ جدید بہاولپور کہا جاتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت انہوں نے اپنے تمام مالی، ریاستی اور دفاعی وسائل نوزائیدہ ملک کے سپرد کیے اور بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے ‘محسنِ پاکستان’ کا عظیم لقب حاصل کیا۔
. امیرِ بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی: جو کہ 5 بار منتخب رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں اور بہاولپور کے موجودہ امیر ہیں۔ ان کی سربراہی اور مسلسل محنت کے باعث 2011 کی سینیٹ سفارشات اور 2012 کی تاریخی پنجاب اسمبلی قرارداد منظور ہونا ممکن ہوا۔
. کراؤن پرنس بہاول عباس خان عباسی: جو کہ امیرِ بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کے صاحبزادے اور تحریک کے اس تیسرے دور کے قائد ہیں۔ وہ ‘بہاولپور صوبہ محاذ’ کے سربراہ کے طور پر احمد پور شرقیہ سمیت تمام مقامی تحصیلوں میں بیداریِ شعور کی مہم چلا رہے ہیں۔
روزنامہ نوائے احمد پور شرقیہ کا پیغام
بہاولپور کی بحالی کا مسئلہ آج ایک انتہائی نازک اور سلگتا ہوا مقامی اور قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ تین نسلوں کا وہ خواب ہے جس کی شمع پرنس مامون الرشید عباسی نے جلائی، نواب صلاح الدین عباسی نے سنبھالی اور اب کراؤن پرنس بہاول عباس خان عباسی اس کی عملی تعبیر کے لیے تمام تحصیلوں میں دن رات سرگرمِ عمل ہیں۔ احمد پور شرقیہ کے غیور عوام اور صحافی برادری اس حق بجانب آئینی تحریک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ وقت اس 56 سالہ دیرینہ مطالبے اور 1951 کے آئینی صوبے کی بحالی کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

