بہاولپور صوبہ خیرات نہیں ہمارا قانونی حق ہے پرنس بہاول عباسی
بہاولپور 1970 میں سابق صدر یحییٰ خان نے زبردستی ایل ایف او کے تحت ہمیں پنجاب میں ضم کر دیا حالانکہ صوبہ بہاولپور کا انضمام ون یونٹ کے قیام کے وقت مغربی پاکستان میں ہوا تھا پنجاب میں نہیں۔
پاکستان کے وقت میرے پڑدادا نواب سر صادق محمد خان عباسی نے اپنی ریاست بہاولپور کے خزانے کے منہ نوزائیدہ مملکت پاکستان کے لیے کھول دیے انہوں نے اسکی کرنسی کی ضمانت دی پورے ملک کی کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کیں لیکن ہمیں اس کا کیا صلہ دیا گیا -ہمارے دریا ستلج کو فروخت کر دیاگیا حالانکہ انگریزوں کے دور میں میرے بزرگوں نے ریاست کی بنجر اراضی کو آباد کرنے کے لیے ستلج ویلی پراجیکٹ بنایا تھا جس کے لیے بر طانوی حکومت سے بڑا قرضہ بھی لیا گیا تھا
نواب صلاح الدین عباسی نے 2009 سے 2012 تک صوبائی بحالی کی تحریک کے دوسرے مرحلہ کی قیادت کی جس کے نتیجہ میں پنجاب اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی مگر سیاسی جماعتوں نے بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے قیام کو بعد میں صرف اس علاقہ میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے استمال کیا
پرنس بہاول عباس خان عباسی نے بار ایسوسی ایشن کے اجلاس اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکلا اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور بہاولپور کے گمشدہ حقوق کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں- انہوں نے پنجاب بار کونسل کے چوہدری ایمان حسین چٹھہ تحصیل بار ایسوسی ایشن چشتیاں کے صدر حافظ مختار احمد بلوچ اور جنرل سیکرٹری محمد محسن اعجاز کے علاوہ سابق ایم این اےو سابق ضلع ناظم بہاولنگر میاں ممتاز احمد متیانہ سے اظہار تشکر کیا
پرنس بہاول عباسی کے خطاب کے بعد تحصیل بار ایسوسی ایشن چشتیاں نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے حق میں ایک قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی جسکے زریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بلا تاخیر بہاول پور کی صوبائی حیثیت بحال کرے
چشتیاں( نامہ نگا)ر بہاولپور صوبہ خیرات نہیں ہمارا قانونی حق ہے جسے 1970 میں سابق صدر یحییٰ خان نے زبردستی ایل ایف او کے تحت ہمیں پنجاب میں ضم کر دیا حالانکہ صوبہ بہاولپور کا انضمام ون یونٹ کے قیام کے وقت مغربی پاکستان میں ہوا تھا پنجاب میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار بہاولپور صوبہ محاذ کے قائد پرنس بہاول عباس خان عباسی نے چشتیاں با ر ایسوسی ایشن کے اجلاس اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا – پرنس بہاول عباس عباسی کے چشتیاں وزٹ کے انتظامات سابق ضلع ناظم بہاولنگر میاں ممتاز احمد متیانہ سابق ایم این نے کیے تھے-ولی عہد بہاولپور نے کہا کہ بہاولپور پہلی ریاست تھی جس نے 1947 میں پاکستان کے ساتھ سب سے پہلے شامل ہونے کا فیصلہ کیا اس کے بعد خیرپور ریاست اور سب سے آخر میں بلوچستان کی قلات سٹیٹ پاکستان میں شامل ہوئی
پرنس بہاول عباس خان عباسی نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت میرے پڑدادا نواب سر صادق محمد خان عباسی نے اپنی ریاست بہاولپور کے خزانے کے منہ نوزائیدہ مملکت پاکستان کے لیے کھول دیے انہوں نے اسکی کرنسی کی ضمانت دی پورے ملک کی کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کیں لیکن ہمیں اس کا کیا صلہ دیا گیا – انہوں نے کہا کہ ہمارے دریا ستلج کو فروخت کر دیاگیا حالانکہ انگریزوں کے دور میں میرے بزرگوں نے ریاست کی بنجر اراضی کو آباد کرنے کے لیے ستلج ویلی پراجیکٹ بنایا تھا جس کے لیے بر طانوی حکومت سے بڑا قرضہ بھی لیا گیا تھا لیکن آج بہاولپور ڈویژن کے لوگوں کو ان کا پانی کا جائز حق نہیں مل رہا اسی طرح ہمارے ریلوے کا مکمل نظام موجود تھا لیکن ریلوے کی پٹریاں اٹھا کر فروخت کر دی گئیں ریلوے اسٹیشن اجا ڑ دیے گئے
پرنس بہاول عباس عباسی نے کہا کہ 1952 سے 1955تک بہاول پور صوبے کے طور پر موجود رہا، یہاں بہاولپور اسمبلی کام کر رہی تھی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے ، بہاول پور کا وزیر اعلیٰ بھی تھا جس کی کابینہ بھی تھی اور اس کا پبلک سروس کمیشن بھی تھا پبلک کمیشن سروس کمیشن کے زریعے منتخب ہوئے نوجوانوں کو پا کستان کی سول سروسں میں بھیجا جاتا تھا کیونکہ اس کا باقاعدہ کوٹہ مقرر تھا – بہاول پور کی اپنی ہائی کورٹ تھی لیکن ون یونٹ میں ادغام کے بعد سب کچھ ختم ہوگیا- انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ بہاولپور کے نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہیں وہ روزگار کے حصول کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنا قانونی حق مانگ رہے ہیں ہم کسی دوسرے صوبے کے قیام کے خلاف نہیں ہیں بے شک آپ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنا دیں- ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد نواب صلاح الدین عباسی نے 2009 سے 2012 تک صوبائی بحالی کی تحریک کے دوسرے مرحلہ کی قیادت کی جس کے نتیجہ میں پنجاب اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی مگر سیاسی جماعتوں نے بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے قیام کو بعد میں صرف اس علاقہ میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے استمال کیا
پرنس بہاول عباس خان عباسی نے بار ایسوسی ایشن کے اجلاس اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکلا اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور بہاولپور کے گمشدہ حقوق کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں- انہوں نے پنجاب بار کونسل کے چوہدری ایمان حسین چٹھہ تحصیل بار ایسوسی ایشن چشتیاں کے صدر حافظ مختار احمد بلوچ اور جنرل سیکرٹری محمد محسن اعجاز کے علاوہ سابق ایم این اےو سابق ضلع ناظم بہاولنگر میاں ممتاز احمد متیانہ سے اظہار تشکر کیا-پرنس بہاول عباسی کے خطاب کے بعد تحصیل بار ایسوسی ایشن چشتیاں نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے حق میں ایک قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی جسکے زریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بلا تاخیر بہاول پور کی صوبائی حیثیت بحال کرے قبل ازیں صادق گڑھ پیلس سے چشتیاں جاتے ہوئے راستے میں متعدد مقامات پر پرنس بہاول عباس عباسی کے قافلے کا پر جوش استقبال کیا گیا اور انہیں گلدستے پیش کیے گئے اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے
پرنس بہاول خان عباسی کے تحصیل بار ایسوسی ایشن چشتیاں سے خطاب کو سننے کیلئے فیس بک کے درج ذیل لنک کو کلک کریں

