میاں زاہد اویسی پر حملے کے خلاف بہاولپور میں گرینڈ مذمتی اجلاس، 20 جولائی تک مطالبات منظور نہ ہونے پر احتجاج اور پولیس خبروں کے بائیکاٹ کا اعلان
صحافتی تنظیموں، پریس کلبوں، ٹریڈ یونینز، وکلاء، تاجروں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کا مشترکہ مطالبہ: ملزمان کی فوری گرفتاری، ایف آئی آر میں مزید متعلقہ دفعات شامل کی جائیں اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
بہاولپور (پریس ریلیز)
سینئر کرائم رپورٹر روزنامہ خبریں میاں زاہد اویسی پر ہونے والے مبینہ قاتلانہ حملے کے خلاف بہاولپور میں صحافتی تنظیموں، پریس کلبوں، ٹریڈ یونینز، وکلاء، تاجروں، سیاسی و سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک گرینڈ مذمتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، ایف آئی آر میں قانون کے مطابق مزید متعلقہ دفعات شامل کی جائیں اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اگر 20 جولائی تک مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ڈی سی آفس چوک بہاولپور میں پرامن مگر بھرپور احتجاج کیا جائے گا، جبکہ احتجاجاً پولیس سے متعلق خبروں کے مکمل بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں بہاولپور پریس کلب (رجسٹرڈ)، سٹی پریس کلب بہاولپور، اتحاد پریس کلب بہاولپور، ریجنل پریس کلب بہاولپور، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن سمیت مختلف صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی نظامت سٹی پریس کلب بہاولپور کے جنرل سیکرٹری حفیظ منصوری نے کی۔
اجلاس سے صدر بہاولپور پریس کلب (رجسٹرڈ) چوہدری محمد سلیم، صدر ریجنل پریس کلب محمد ارشد بھٹی راجپوت، صدر اتحاد پریس کلب سید لطیف شاہ، صدر سٹی پریس کلب علی ہاشمی، پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ڈویژنل صدر ملک اطہر سعید، سینئر صحافی رمضان پیرزادہ، معروف قانون دان سردار نجیب اللہ خان ایڈووکیٹ، سابق صدر بہاولپور بار ایسوسی ایشن اختر عباسی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما عمیر قیوم خواجہ اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ضلعی جنرل سیکرٹری رانا سیف اللہ سمیت متعدد مقررین نے خطاب کیا اور صحافیوں کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران ریجنل پریس کلب بہاولپور کے سینئر نائب صدر مہر محمد بلال نے مذمتی قرارداد پیش کی، جسے تمام شریک پریس کلبوں اور نمائندوں نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حملے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں، وکلاء تنظیموں، تاجروں، سماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے 20 جولائی کے مجوزہ احتجاج میں بھرپور شرکت اور صحافی برادری سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ سینئر کرائم رپورٹر روزنامہ خبریں میاں زاہد اویسی پر ہونے والے حملے کے بعد اس واقعے کی نہ صرف ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے مذمت کی بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی۔ رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان ، جرنلسٹس الائنس پاکستان ، رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز اور کامن ویلتھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے الگ الگ بیانات اور الرٹس جاری کیے تھے، جن میں ذمہ داران کی فوری گرفتاری، شفاف تحقیقات اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اجلاس کے مقررین نے بھی اس امر پر زور دیا کہ صحافیوں پر حملوں کے واقعات کی بروقت، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات آزادیٔ صحافت اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میاں زاہد اویسی کو انصاف کی فراہمی، صحافیوں کے تحفظ اور آزادیٔ صحافت کے دفاع کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ آخر میں بہاولپور کے سینئر صحافی اللہ وسایا ہاشمی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔
نوٹ: یہ خبر موصولہ پریس ریلیز کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اس میں شامل آراء اور مطالبات متعلقہ مقررین اور اجلاس کے اعلامیے سے منسوب ہیں۔

