Advertisements

آیت اللہ سید علی خامنہ ای: حیات، جدوجہد اور قیادت کا تاریخی جائزہ

Ayat Ullah Khamenaye
Advertisements

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت پر ایران میں سات روزہ سرکاری تعطیل اور چالیس روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ ان کی وفات نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دی جا رہی ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا آغاز کیا اور کم عمری میں ہی دینی علوم میں مہارت حاصل کرلی، جس کے بعد وہ ایک ممتاز عالمِ دین کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

Advertisements

شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد

نوجوانی کے دور میں وہ شاہِ ایران کے خلاف جاری تحریک کا حصہ بنے اور ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینیؒ کی جدوجہد میں شامل ہوگئے۔ رفتہ رفتہ ان کا شمار امام خمینیؒ کے قریبی رفقا میں ہونے لگا۔ اس انقلابی جدوجہد کے دوران انہیں کئی برس روپوش رہنا پڑا اور جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انہیں چھ مرتبہ گرفتار کیا، دورانِ حراست انہیں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر وہ اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔

انقلاب کے بعد ذمہ داریاں

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینیؒ نے انہیں تہران میں نمازِ جمعہ کا امام مقرر کیا۔ 1980ء سے 1981ء تک وہ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔ اسی عرصے میں ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا دایاں ہاتھ مستقل طور پر بےکار ہوگیا، تاہم اس واقعے نے ان کے عزم میں کوئی کمی نہ آنے دی۔

صدارت سے رہبرِ اعلیٰ تک

آیت اللہ خامنہ ای 1981 میں ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1989ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ امام خمینیؒ کی وفات کے بعد انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ وہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے دوسرے رہبرِ اعلیٰ تھے اور اپنی شہادت تک مسلسل 37 برس اس منصب پر فائز رہے۔

عالمی اثر و رسوخ اور مزاحمتی سیاست

شہادت کے وقت ان کی عمر 86 برس تھی۔ وہ عالمِ اسلام کی طاقتور ترین مذہبی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ بطور رہبرِ اعلیٰ، ولی فقیہ اور دنیا بھر میں کروڑوں اہلِ تشیع مسلمانوں کے مرجعِ تقلید، ان کا اثر و رسوخ عالمی سطح پر نمایاں رہا۔
آیت اللہ خامنہ ای کا دنیا کی اہم مزاحمتی تنظیموں پر گہرا اثر تھا۔ انہوں نے اپنے پیش رو کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے قبلۂ اول کی آزادی کی تحریک کی سرپرستی کی اور فلسطین، کشمیر سمیت دنیا بھر کی مظلوم اقوام کی حمایت کو مزید وسعت دی۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سرگرم مزاحمتی تنظیموں کی سیاسی، اخلاقی اور نظریاتی حمایت ان کی پالیسی کا مستقل حصہ رہی۔

خاندانی زندگی اور شہادت

آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقر زادہ ہیں۔ ان کے چھ بچے ہیں، جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ امریکی حملے میں ان کی ایک بیٹی، داماد، نواسا اور بہو بھی شہید ہوئیں، جس سے یہ سانحہ مزید گہرا اور المناک ہوگیا۔

اختتامیہ

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی جدوجہد، مزاحمت اور قیادت کی علامت تھی۔ ان کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمِ اسلام کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ اپنے حامیوں کے نزدیک استقامت اور خودمختاری کی علامت، جبکہ ناقدین کی نظر میں ایک سخت گیر مگر فیصلہ کن رہنما کے طور پر تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔

(ویب ڈیسک)